مشرق وسطیٰ

میری جنگی پالیسی کے بارے میں جو بائیدن کی تنقید بے بنیاد ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر کی اسرائیل کی جاری جنگی پالیسی پر تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ جو بائیڈن کی تنقید کے اگلے ہی روز نیتن یاہو نے ' پولیٹیکو' کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی جنگی پالیسی کو اسرائیلیوں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

جو بائیڈن نے ایک روز پہلے ہی نیتن یاہو کی جنگی پالیسی کو اسرائیل کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا تھا۔ نیتن یاہو نے کہا اپنے ' جوابی ' انٹرویو میں کہا 'اگر جوبائیڈن کا مطلب یہ ہے کہ میں بطور وزیر اعظم اکثریتی رائے کے برعکس ذاتی خواہشات کو آگے بڑھا رہا ہوں اور اس سے اسرائیل کو نقصان پہنچ رہا ہے تو جو بائیڈن کی دونوں باتییں غلط ہیں۔ '

واضح رہے امریکی صدر جو بائیڈن نے نیتن یاہو کے لیے یہ بھی کہا تھا کہ' اسے غزہ میں معصوم شہریوں کی جانوں پر بھی توجہ دینا چاہیے۔' جو بائیڈن نے پورے پانچ ماہ تک اسرائیلی جنگ کی حماس کے خلاف بھر پور حمایت کی ہے، لیکن اب جوبائیڈن کے لہجے میں قدرے خفگی آگئی ہے۔ یہ خفگی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔

نیتن یاہو نے 'پولیٹیکو' کے ایک سوال پر کہا ' میری جنگی پالیسی اسرائیل کی واضح اکثریت کی حمایت سے چل رہی ہے۔ اس لیے ہم دہشت گرد حماس کی بریگیڈز کو تباہ کر رہے ہیں۔'

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا ' پہلے ہمیں حماس کو تباہ کرنا ہو گا اس کے بعد آخری چیز کے طور پر غزہ کچھ ایسا کرنا ہوگا جس سے غزہ کے کنٹرول کا فیصلہ مقصود ہو۔ کیونکہ فلسطینی اتھارٹی اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دے رہی ہے وہ دہشت گردی کی طرف جانے کی تعلیم ہے اور اس کے لیے ادائیگی کی جاتی ہے۔'

نیتن یاہو نے عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کے لیے امریکی خیالات کو مسترد کیا ہے اور اس سلسلے میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے والے امریکہ کی ہمیشہ نفی کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں محدود اختیارات کے ساتھ کام کرنے والی فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کے لیے کہا ہے۔

لیکن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی عوام میرے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکی عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں فلسطینی ریاست کو اپنے ذمہ لینے کی کوشش کو بھرپور طریقے سے مسترد کرنا چاہیے۔'

بلا شبہ نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ غزہ کو کنٹرول کرنا اس کے لیے فلسطینی عوام کی وجہ سے مشکل ترین مرحلہ ہو سکتا ہے۔ جو پورے اسرائیل کے لیے عدم استحکام کا ذریعہ بنے رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں