نئی حکومت میں کوئی دھڑے بندی نہیں ہے: مشیر محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اس وقت جب یہ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ایک نئی فلسطینی حکومت قائم ہوگی، اس حوالے سے فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر محمود ھباش نے کہا کہ نئی حکومت میں دھڑے بندی کے اصول کو مسترد کردیا گیا ہے۔ اتوار کو العربیہ سے بات چیت میں انہوں نے مزید کہا کہ اگلی حکومت کی تشکیل صرف صدر کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلی حکومت ٹیکنو کریٹس کی ہوگی اور اس میں کوئی دھڑے بندی نہیں ہوگی۔ اس میں صرف ایک قیادت ہوگی جو پی ایل او کی ہوگی۔ محمود ھباش کا یہ بیان حماس سے غزہ کی پٹی میں اقتدار کی باگ ڈور فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ھباش نے نشاندہی کی کہ تمام فلسطینیوں کو حکومت سے مطمئن ہونا چاہیے لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ جو شخص اسے تشکیل دے رہا ہے اور اس کا صدر اور وزیراعظم منتخب کر رہا ہے وہ فلسطینی صدر محمود عباس ہیں۔

حماس کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کوئی حکومتی ادارہ نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے دھڑے کی طرح ایک دھڑا ہے۔ اسے غزہ کے تمام معاملات کی باگ ڈور فلسطینی اتھارٹی اور حکومت کے حوالے کردینی چاہیے۔ جہاں تک نئی حکومت کے اعلان کی تاریخ کا تعلق ہے، محمود ھباش نے بتایا کہ ابھی تک اس کا تعین نہیں ہوا ہے۔

تحریک فتح نے العربیہ کو بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینیوں کے مستقبل کی تنہا ذمہ دار ہے۔ ’’فتح‘‘ نے کہا کہ "مستقبل کی کسی بھی حکومت کا مشن غزہ میں اسرائیلی قبضے کو ختم کرنا اور جنگ کو روکنا ہوگا‘‘ ۔ تحریک فتح نے یہ بھی کہا کہ ایک آزاد فلسطینی فیصلے کے لیے قومی دھڑوں کے موقف کے اتحاد کی ضرورت ہے، ہم نے قومی اتفاق رائے کی حکومت کی تشکیل کے لیے حماس کی جانب سے مثبت موقف دیکھا ہے۔ حماس کو ایک متحد فلسطینی گھر کی تعمیر کے لیے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔

دوسری طرف حماس نے تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اکیلے حکومت کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی لیکن اس نے اتفاق رائے والی حکومت کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس کے رہنما حسام بدران نے کہا کہ حماس آئندہ قومی متفقہ حکومت میں تمام فلسطینی جماعتوں کی شرکت کا خیرمقدم کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس نے مخصوص کاموں کے ساتھ ایک عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے جس میں غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان اداروں کو متحد کرنا، تعمیر نو اور انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔

بدران نے کہا کہ اس مرحلے پر ہم اس حکومت اور اس کی صدارت کے لیے تجویز کردہ ناموں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک اعلیٰ سطح کے فلسطینی ذریعہ کے مطابق فلسطینی صدر کی جانب سے اس ماہ کے دوران فلسطینی سرمایہ کاری فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین محمد مصطفیٰ کو حکومت کی سربراہی سونپنے کی توقع کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں