اسرائیل اور حماس غزہ جنگ بندی کے لیے 'کسی ڈیل کے قریب نہیں': قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ثالث قطر نے منگل کو کہا، اسرائیل اور حماس غزہ میں لڑائی کو روکنے اور یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے معاہدے کے قریب نہیں ہیں۔ اور خبردار کیا ہے کہ صورت حال "انتہائی پیچیدہ" ہے۔

امریکی، قطری اور مصری ثالثین میں ہفتوں کے مذاکرات کے باوجود پیر کو مسلمانوں کے مقدس ماہِ رمضان کا آغاز کسی جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے بغیر ہوا جبکہ ثالثین کا مقصد اس کے برعکس تھا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا، "ہم کسی معاہدے کے قریب نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم فریقین کو ایسی زبان پر مائل ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے ہیں جو معاہدے کے نفاذ پر موجودہ اختلاف کو دور کر سکے۔"

الانصاری نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا، تمام فریقین "مذاکرات پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ رمضان کی حدود میں کسی معاہدے تک پہنچ سکیں۔"

لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ معاہدے پر "کوئی مخصوص وقت نہیں دے سکتے" جبکہ تنازعہ "زمین پر بہت پیچیدہ" رہا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی بمباری اور زمینی حملے میں 31,112 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

قطر نے اس سے قبل نومبر کے آخر میں لڑائی میں ایک ہفتے کے وقفے کی ثالثی کی تھی جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ محصور فلسطینی سرزمین پر امداد بھی پہنچی تھی۔

الانصاری سے پوچھا گیا کہ آیا کہ قطر نے جنگ بندی کی کوششوں میں حماس پر دباؤ ڈالا ہے جس کا دوحہ میں سیاسی دفتر ہے۔

انہوں نے کہا، "ایک ثالث کے طور پر جو فریقین کے درمیان خیالات کا تبادلہ کر رہا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ ایسی (دباؤ کی) اصطلاحات استعمال کرنا یا فائدہ اٹھانا مفید ہے۔"

لیکن انہوں نے کہا، قطر "فریقین کو ایک معاہدے تک پہنچانے کے لیے یقینی طور پر ہر وہ چیز استعمال کر رہا ہے جو ہمارے لیے ممکن ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں