فلسطین اسرائیل تنازع

"سات اکتوبرکو جنسی تشدد ہواتو بھی غزہ پر جنگ مسلط کرنے کا جواز نہیں تھا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سلامتی کونسل کے اجلاس سے اقوام متحدہ کی نمائندہ پرامیلا پیٹن نے اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اگر سات اکتوبر کو اسرائیل میں جنسی تشدد کیا بھی گیا ہے تو یہ غزہ پر اسرائیلی حملے کا جواز نہیں۔ وہ اسرائیل میں حماس کے سات اکتوبر کو کیے گئے حملے کے دوران کی گئی مبینہ جنسی حملوں کے بارے میں امریکی رپورٹ پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ادارے کی رائے پیش کر رہی تھیں۔

پرامیلا پیٹن نے کہا ' حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں جو صورت حال چل رہی ہے وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا تقاضا کرتی ہے تاکہ غزہ میں شہریوں پر گذرنے والی اور ناقابل بیان صورت حال سے چھٹکارا ہو سکے' پرامیلا کی تقریر کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز بھی موجود تھے اور سن رہے تھے۔ اس سے پہلے ہی اپنی تقریر کر چکے تھے۔

وہ اسرائیل کے اس موقف کے بارے میں بات کررہی تھیں جو اسرائیل نے پیر کے روز پیش کیا تھا کہ سات اکتوبر کو اسرائیلی خواتین کے ساتھ حماس نے جنسی زیادتی کی ہے اور اس کے بارے میں واضح اور قائل کرنے والی معلومات بھی موجود ہیں۔ کہ بعض اسرائیلی جنہوں 7 اکتوبر کو حماس نے یرغمال بنایا تھا ان میں سے بعض کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، تاہم اقوام متحدہ کی نمائندہ نے کہا ' لیکن یہ اس کا جواز نہیں بنتا کہ مزید دشمنی کو جائز مانا جائے۔'

پرامیلا پیٹن نے کہا ' دشمنی کو جاری رکھنے سے کسی کو بھی محفوظ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح تو میں کہوں گی کہ میں صرف انہیں مزید تشدد اور جنسی تشدد کے لیے سامنے لا رہی ہوں گی۔'

واضح رہے سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی خواہش پر بلایا گیا ہے۔ جس کے لیے وہ اپنے انداز میں اس کے لیے معقول بنیاد رکھتے ہیں کہ حماس نے سات اکتوبر کو جنسی تشدد کیا تھا۔ زبردستی کی تھی اور کئی دوسرے ظالمانہ طریقے اختیار کیا تھے۔

پرامیلا نے سلامتی کونسل کو بتایا اب بھی 134 یرغمالی غزہ میں حماس کے پاس ہیں۔ جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ آبادی ہے، یہ سب اس وقت مشترکہ تقدیر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان سب کے لیے ضروری ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ضروری ہے۔'

غزہ میں پہلے ہی وزارت صحت کے مطابق 30 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان ہلاک کیے گئے 30 ہزار سے زائد میں دو تہائی سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ' میں تو سلامتی کونسل کے سامنے اونچی آواز میں احتجاج کرنے آیا تھا کہ حماس نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ تاکہ اسرائیلی معاشرے کو خوفزدہ کر سکے۔

کاٹز نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے سات اکتوبر سے اب تک 40 اجلاس کیے ہیں،تاکہ حماس کی مذمت کی جا سکے، اس کے خلاف ایکشن کیا جا سکے، اس لیے ضروری ہے اس انتہا پسند گروپ کو دہشت گرد قرار دیا جائے اور اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ یہ یرغمالیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرے۔

اس موقع پر کاٹز کے اس بیان نے سفارت کاروں کو حیران کیا ' کہ پیر کے روز سے رمضان شروع ہو گیا ہے، یہ مسلمانوں کو مقدس مہینہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ اس میں اللہ کی رحمت پاتے ہیں۔ لیکن حماس مسلم دنیا کی طرف سے بات نہیں کر رہی ہے ہم آپ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حماس کی جنسی تشدد کے باعث مذمت کی جائے جو اس نے مسلمانوں کے مذہب کے نام پر کیا ہے۔'

فلسطینی اتھارٹی کے سفیر ریاض منصور نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا ' دنیا بھر کے مسلمان رمضان کی خوشی منا رہے ہیں جبکہ غزہ کے مسلمان موت اور مصائب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے کہیں خوارک اور امید نطر نہیں آ رہی ہے۔ '

ریاض منصور نے کہا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس لیے جنگ بندی نہیں چاہتے کہ کہ ان کی ذاتی سیاست کی بقا اس خونریزی کی بدولت ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ غزہ میں جبری نقل مکانی سے بچ گئے فلسطینیوں کے لیے غزہ کو ناقابل رہائش بنا دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں