فلسطین اسرائیل تنازع

سلامتی کونسل یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ حماس کے جنگجووں پر ہر ممکن دباؤ ڈالے تاکہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر مجبور ہو سکیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ مطالبہ 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کے دوران کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس امریکہ کی اس درخواست کا جائزہ لینے کے لیے جاری ہے جو اس رپورٹ پر مبنی ہے کہ حماس کے جنگجووں نے سات اکتوبر کو مختلف مقامات پر اسرائیلی خواتین کو انفرادی اور اجتماعی طور جسمانی زیادتیوں کا نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیل کی طرف سے مطالبہ کیا گیا' کہ ان جسمانی زیادتیوں کے واقعات کی مذمت کی جائے۔اور دہشت گردی جس کا ارتکاب کیا گیا اس کی مذمت کی جائے۔ نیز حماس پر ایسا دباؤ دا؛لا جائے کہ وہ غیر مشروط طور پر یرغمالیوں کو رہا کر دے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ کاٹز نے سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ بھی کیا حماس پر پابندیاں عاید کی جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا' حماس نے داعش اور القاعدہ سے بھی زیادہ سنگین دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے۔ جن پر سلامتی کونسل پہلے سے پابندیاں لگا چکی ہے۔'

واضح رہے سلامتی کونسل نومبر اور دسمبر میں یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کی اپیل کر چکی ہے۔ امریکہ کی اقوام متحدہ کے لیے سفیر لنڈا تھامس نے بھی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ حماس کی مذمت کی جائے۔

امریکی سفیر نے کہا ' اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ سات اکتوبر کو کیا ہوا،ہمارے سامنے موجود تباہی اور ظلم کی شہادت موجود ہے۔ اب صرف ایک ہی سوال ہے کہ ہم کس طرح جواب دیتےہیں۔ ہمیں کونسل کی طرف سے حتمی اور حتمی طور پر حماس کی مذمت کرنی چاہیے۔ یا پھر ہمیں خاموش کھڑے رہنا ہے۔

اسرائیل سلامتی کونسل میں یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کرنے آیا ہے جبکہ حماس کا حملہ اسرائیل پر پانچ ماہ قبل کیا گیا ور اس میں 1200 اسرائیل مارے گئے۔ جبکہ اسرائیل نے غزہ میں 32 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور 23 لاکھ سے زیادہ کو بے گھر کرنے کے علاوہ پورے غزہ کو تباہ کرکے غزہ کے لوگوں پر قحط مسلط کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اس موقع پر اسرائیل کے بارے میں کہا ' اسرائیل ہمارے لوگوں کو جبری طور پر غزہ سے نقل مکانی کرا رہا ہے اور غزہ کو ایسا بنا رہا ہے کہ رہنے کے قابل نہ رہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں