فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کےمتاثرین سے ہمدردی کی پاداش میں برطانوی یہودی فن کارکے خلاف شرانگیز مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں 7 اکتوبر کے متاثرین اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کے متاثرین کے لیے اپنی ہمدردی کا اظہار کرنے کے بعد برطانوی یہودی فلم ڈائریکٹر جوناتھن گلیزر کے خلاف شرانگیز مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم میں بعض نے ’جنونی‘ قرار دیا۔ فن کار نے اپنے خلاف جاری مہم کو شرانگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے الفاظ کے غلط معنے لیے گئے ہیں۔

96 ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں اتوار کو ایک اور سنجیدہ کردار اختیار کیا جب ہولوکاسٹ سے متعلق فلم "دی زون آف انٹرسٹ" کے لیے بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کا اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے برطانوی یہودی ہدایت کار جوناتھن گلیزر نےایک مختصرتقریر کی میں انہوں نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اپنے یہودیت اور ہولوکاسٹ کو ایک علاقے قبضے کی خاطر غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے جس کی وجہ سے بہت سے معصوم لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے"۔ ان کا خیال تھا کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی اور اس حملے کے بعد ہونے والی جنگ کے نتیجے میں 31000 کے قریب فلسطینی مارے گئے۔ یہ تمام غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں"۔

مارک روفالو، بلی ایلش، ریمی یوسف اور فرانسیسی اداکار سوان آرلو سمیت متعدد ستاروں نے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے کپڑوں پر جنگ بندی کے بیج لگا رکھے تھے۔

کئی مشہور شخصیات نے گلیزر کے بیان پر تنقید کی، جن میں آنجہانی سینیٹر جان مکین کی بیٹی میگھن مکین اور اینٹی ڈیفیمیشن لیگ کے سابق صدر ایبی فاکس مین نے کہا کہ ان کے الفاظ ان کے یہودی ہونے کی نفی کرتے ہیں"۔

فاکس مین نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ "میں بہت خوش ہوں کہ 'زون آف انٹرسٹ' نے آسکر میں بہترین بین الاقوامی فلم کا ایوارڈ جیتا لیکن ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے کے طور پر میں حیران ہوں کہ ہدایت کار نے ایک ملین سے زیادہ یہودیوں کی یاد کو تھپڑ مارا جو یہ کہہ کر مر گئے کہ وہ یہودی تھے۔

بہت سی یہودی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ گلیزر خود حقیقت میں ہولوکاسٹ کو "ہائی جیک" کر رہا ہے۔ ایک اسرائیلی وزیر نے ہدایت کار جوناتھن گلیزر پر تنقید کرتے ہوئے سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ پیر کو یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس نے اسے جوناتھن کو "یہود دشمن" قرار دیا۔

دوسری جانب کچھ سوشل میڈیا صارفین نے زور دیا کہ گلیزر کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ "آسکر میں جوناتھن گلیزر کی ایماندارانہ، انسان دوستانہ اور جرات مندانہ تقریر کے گرد چھایا ہوا ہسٹیریا اور جھوٹ ان کی بات کی تصدیق کرتا ہے‘‘۔

برطانوی فلم "دی زون آف انٹرسٹ" نے بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کا آسکر جیت لیا۔ یہ فلم ایک جرمن افسر کے خاندان کی کہانی بیان کرتی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران آشوٹز کے حراستی کیمپ کے ساتھ رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں