فلسطین اسرائیل تنازع

پہلا امدادی بحری جہاز قبرص کی بندرگاہ سے غزہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قبرص کی بندرگاہ سے بحری جہاز تقریباً 200 ٹن خوراک لے کر غزہ کے لیے منگل کو صبح سویرے روانہ ہوا ہے۔ قبرص سے روانہ کیے گئے اس پہلے بحری امدادی جہاز کو ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر بھیجا گیا ہے۔

تاکہ اس تجربے کی روشنی میں قحط کے دہانے پرکھڑی تباہ شدہ غزہ کی آبادی کو ایک نئے سمندری راستے سے خوارک وغیرہ کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔

واضح رہے اسرائیل نے زمینی راستوں سے غزہ میں امدادی سامان اور خوارک کی ترسیل کو تقریباً بند کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں امدادی و عالمی اداروں کی سرfor Gaza, loadگرمیوں میں بھی اسرائیل اور اس کی فوج ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔

منگل کے روز 'چیریٹی شپ اوپن آرمز' کو قبرص کی لارناکا بندرگاہ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں تقریباً 200 ٹن آٹا، چاول اور دوسری اشیا موجود تھیں۔ اب تک قبرص میں مزید 500 ٹن امدادادی سامان جمع ہوچکا ہے جسے جلد غزہ بھیجا جائے گا۔

اس امدادی مشن کے لیے زیادہ تر فنڈ متحدہ عرب امارات کی طرف سے ہی فراہم کیا جارہاہے، جبکہ امریکی ادارے' چیریٹی ورلڈ سینٹرل کچن (WCK) ' کا کردار اس سلسلے کو منظم کرنے کے لیے ہے۔

خیال رہے امریکہ نے فلسطینیوں کی امدادکے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے ادارے ' اونروا' کے لیے اپنی فنڈنگ ماہ جنوری سے بند کر رکھی ہے۔

قبرص سے بحری راستے سے غزہ میں خوراک پہنچانے کے لیے سپین کے ایک خیراتی ادارے نے بحری جہاز کی سہولت فراہم کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکہ غزہ میں لینڈنگ جیٹی بنا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں