سعودی عرب میں خوراک کا ضیاع تقریباً 40 ارب ریال سالانہ ہے

کھانے کے اخراجات کو معقول بنانے سے آپ تنخواہ کا 10% بچا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے مطابق سعودی عرب میں خوراک کے فضلے کی بلند شرح معیشت، صحت اور ماحولیاتی سطحوں پر ایک بڑا چیلنج ہے۔

جہاں رمضان کے مہینے میں غذائی اجناس کی خریداری غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے، وہیں خوراک بڑے پیمانے پر ضائع بھی ہوتی ہے۔ اس سے غذائی تحفظ کے مسائل کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔

وزارت زراعت نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب میں خوراک کے ضیاع سے ملک کو سالانہ تقریباً 40 ارب ریال کا نقصان ہوتا ہے ۔ جبکہ مملکت میں ہر ایک فرد سالانہ تقریباً 184 کلوگرام ضائع کرتا ہے۔

اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی سطحوں پر اس کے سنگین اثرات کی وجہ سے خوراک کا ضیاع اور فضلہ ایک عالمی تشویش کا باعث بنتا ہے، جس سے نایاب وسائل جیسے پانی، زمین، توانائی، انسانی وسائل اور دیگ کے ضیاع کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جس کو کم کرنے کا قومی پروگرام اشارہ کرتا ہے۔

کھانے کا ضیاع

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہر اقتصادیات طرید باسنبول نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ معاشرے کا طرز عمل نہیں بدلے گا جب تک کہ اس میں موجود ہر فرد کے رویے میں تبدیلی نہ آئے۔

سب سے اہم تبدیلیوں میں سے ایک خریداری کے رویے میں تبدیلی ہے۔ خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء میں، ماہانہ سے ہفتہ وار خریداری کرنا بہتر ہے۔ آپ کے خیال میں مہینے کے شروع میں جو خریدیں گے وہ مہینے کے آخر تک استعمال ہوتا ہے؟ ہم ڈبہ بند کھانے کا کچھ حصہ پھینک دیتے ہیں کیونکہ اس کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ تقریباً آدھی سبزیاں اور پھل کھانے سے پہلے خراب ہو جاتے ہیں، باقی کھانے کا ذکر ہی کیا جو پکایا گیا اور کھایا نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارے جسم سے سیکھنا چاہیے جو کہ فیڈ بیک کے اصول پر کام کرتا ہے۔ جب کوئی مخصوص ہارمون کم ہوتا ہے تو دماغ ذمہ دار عضو کو سگنل بھیجتا ہے تاکہ اس کا زیادہ اخراج ہو سکے۔ اس طرح ہماری غذائی ضروریات سے نمٹا جانا چاہیے۔ جب بھی کھانے کی کوئی چیز کم ہو جائے تو اپنے جیون ساتھی یا گھریلو ملازم سے کہیں کہ وہ آپ کو وہ چیز فراہم کرے ۔اتنی ہی مقدار میں خریدیں، جو آپ کے لیے ایک ہفتہ تک چل سکے، تب آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ خرچ کر رہے تھے۔

رمضان میں کھانے کے اخراجات

چونکہ صرف کھانے کے اخراجات اوسط فرد کی آمدنی کا تقریباً 20-30% ہوتے ہیں، اس لیے آپ کھانے کے اخراجات کو معقول بنا کر اپنی ماہانہ تنخواہ کا کم از کم 10% بچا لیں گے۔ خاص طور پر رمضان میں، جس میں ہمیں دماغ اور عادات کو تبدیل کرنے کے موقع سمجھنا چاہیے۔ جو کہ روزے رکھنے اور روزمرہ کی کھانے کی عادات بدلنے کی وجہ سے آسان ہوتا ہے، مگر ہم رمضان میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ ضائع کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں کو مہینے میں ایک بار خریداری کرنا آسان لگتا ہے، اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہفتہ وار جانا وقت کا ضیاع ہے۔ ہم اس کا موازنہ ایک مثال سے کرتے ہیں: اگر آپ کے باس نے آپ کو اس کے بدلے میں ایک آسان اضافی کام کرنے کو کہا جس سے آپ کی ماہانہ تنخواہ میں 10% اضافہ ہوگا تو کیا آپ انکار کریں گے؟

انتظامی اصول کہتا ہے: جس چیز کی آپ پیمائش نہیں کر سکتے، آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اگر آپ اپنی خریداری کے رویے کی نگرانی نہیں کرتے ہیں، تو آپ اپنے اخراجات منظم نہیں کر پائیں گے، اور یہی بات اسکول کے اخراجات، عید کے کپڑوں اور دیگر پر لاگو ہوتی ہے۔

آخر میں یاد رکھیں کہ معاملہ صرف عیش و عشرت اور تنظیم کا نہیں ہے، یہ حکم الٰہی ہے (کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو)، (اور اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا)۔

اپنے انفرادی رویے کو بدلنے سے ملک بچ جائے گا کیونکہ 40 ارب ریال سالانہ کچرے میں پھینکے جاتے ہیں۔ اور فضلہ جلانے کے نتیجے میں زمین کو کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ہمارے رب کے حکم پر عمل کرنے سے ہمارے تمام معاملات میں برکت آتی ہے.. کیا آپ نے دیکھا ہے کہ آپ کے رویے میں تبدیلی کا کیا اثر ہوتا ہے؟ یہ اکیلے آپ پر ہی نہیں پوری دنیا پر پڑے گا!

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں