فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں بھوک کو فلسطینیوں کے خلاف جنگی ہتھیار بنا لیا گیا ہے : جوزپ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ نے سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران غزہ کی تباہ کن صورتحال اور اسرائیل کی طرف سے امدادی سامان کی ترسیل کے لیے زمینی راستوں سے رکاوٹیں دور نہ کرنے کو جنگ میں بھوک اور قحط کا ہتھیار استعمال کرنے کا نام دیا ہے۔

وہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں منگل کے روز موجود تھے، ان کا کہنا تھا غزہ میں جو تباہی اور انسانی بحران ہے یہ کسی قدرتی آفت سیلاب یا زلزلے کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بحران اور تباہی انسانی ہاتھ سے لائی گئی ہے۔ اب تک 25 سے زائد ہلاکتیں غزہ میں بھوک کی وجہ سے ہو چکی ہیں۔

اپنے خطاب میں جوزپ بوریل نے کہا ' جب ہم یوکرین میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتے ہیں تو ہمیں غزہ میں اس تباہی پر بھی وہی الفاظ استعمال کرنے چاہییں۔ کیونکہ غزہ میں جو کچھ ہو رہاہے ہے یہ انسان کے اپنے بنائے ہوئے انسانی بحران کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کےساتھ اظثہار یکجہتی کیا کہ انہیں بلا جواز نشانے پر رکھا گیا ہے اور ان پر تنقید کی جارہی ہے۔

خیال رہے جس غزہ کی منظر کشی سلامتی کونسل کے ارکان کے سامنے جوزپ بوریل نے کی ہے وہاں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 31181 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لالھ سے بھی زیادہ ہے۔ مگر نہ ہلاک شدگان کی تدفین کے لیے کفن ہے اور زخمیوں کے لیے دوائی ، اور ہسپتال موجود ہے۔ ہر طرف بکھرا ملبہ ہے اور اس پر ایک قتل گاہ بنی ہوئی ہے جہاں ہر روز فلسطینی قتل ہو رہے ہیں۔

اب ان کے قتل کے لیے بڑے منظم انداز سے بھوک اور قحط کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ مگر کوئی بھی عالمی طاقت اسرائیل کو روکنے اور کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ خوراک اور ادویات روکنے کے لیے ایک طرح سے اسرائیل کو سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔

اقوام متضدہ کے اعلی عہدے دار اور ادارے سب غزہ میں قحط کا انتباہ کر رہے ہیں۔ لیکن امدادی سامان اور خوارک کے نام پر محدود تر سرگرمیوں کو بھی گلیمرائز کیا جا رہا ہے۔ کہ جیسے بہت کچھ کیا جارہا ہے اور بہت حساسیت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

بوریل نے اپنے خطاب میں کہا 'میں آپ میں سے کسی کو غزہ میں کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں کچھ سکھانے یا بتانے نہیں آیا ہوں، بس یہ کنا چاہتا ہوں کہ جب ہم مدد فراہم کرنے کے متبادل طریقے تلاش کرتے ہیں، سمندری یا ہوائی راستے سے، ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہمیں یہ کرنا ہے کیونکہ سڑکوں کے ذریعے مدد فراہم کرنے کے قدرتی طریقے کو مصنوعی طور پر بند کیا جا رہا ہے اور لوگوں کے خلاف بھوک کا بطورجنگی ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔'

ایک سوال پر کہ 'کیا یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک غزہ میں جنگ شروع کر رہے ہیں، بشمول جرمنی، جس نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات کی منظوری میں تقریباً دس گنا اضافہ کر دیا ہے؟

یورپی یونین خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا 'میں یہاں غزہ کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ مجموعی طور پر یورپی یونین کی طرف سے کر رہا ہوں۔ کبھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ مختلف مواقع پر مختلف حساسیتیں اور مختلف مقامات آڑے ہوتے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا ' اسٹیج پر کچھ ممبران ایسے ہیں جو کوئی بھی ایسی پوزیشن لینے سے مکمل طور پر گریزاں ہیں جو اسرائیل پرمعمولی تنقید کی نمائندگی کرتی ہو اور کئی ایسے ہین جو جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں۔' انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا ' یورپی یونین کے دو ارکان آئرلینڈ اور سپین نے یورپی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تعاون کے معاہدے کا از سر نواور فوری جائزہ لے۔' کیونکہ یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو منظم کرتا ہے اور اس شرط کا پابند بناتا ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ' ہم اگلے پیر کو اس معاملے پر بحث کریں گے کہ تعاون معاہدے پر کیسے عمل کیا جا رہا ہے اور کس حد تک کیا جا رہا ہے۔'

یورپی یونین کے رہنما نے اخبار نویسوں سے بات چیت میں کہا' ہم ایک بہت، بہت، بہت پیچیدہ، مشکل اور چیلنجنگ دنیا میں رہتے ہیں ، لیکن اقوام متحدہ کے بغیر، دنیا اس سےبھی زیادہ چیلنجنگ، زیادہ خطرناک ہوجائے گی۔'

بوریل کہہ رہے تھے' دنیا تاریک سے تاریک تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس تاریکی کے ماحول میں ایک روشنی ہے، گہری دھند میں کرن ہے، جس کے ذریعے ہم ہر روز اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں۔' اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے لیے مضبوط حمایت کا اظہار کرتے ہیں ۔ سیکرٹری جنرل پر بلا جواز حملوں کے خلاف ہم ان کے ساتھ ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں