اسرائیلی جنگی کونسل رفح میں آپریشن پر متحد ہے: صہیونی وزیر گانٹزکی دھمکی

سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی نسل کشی میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 31272 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اور جنگی کونسل کے رکن بینی گانٹز نے اعلان کیا ہے کہ کونسل رفح میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے لیے متحد ہے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ ہم تاخیر کر رہے ہیں وہ جلد ہی دیکھیں گے کہ ہم غزہ کی پٹی میں ہر جگہ پہنچ جائیں گے۔ گانٹز نے کہا کہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیلی حکومت کے رویے سے متعلق چیلنجز موجود ہیں۔

دوسری طرف حماس کی وزارت صحت نے بدھ 13 مارچ کو اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز سے اب تک 73,024 افراد زخمی ہوچکے اور شہدا کی تعداد 31272 ہوگئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے منگل کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن رفح میں کسی بھی ایسے اسرائیلی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے جو شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کر رہا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک رفح آپریشن پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ نہیں دیکھا ہے۔

گزشتہ ہفتے گانٹز کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران اس نے امریکی انتظامیہ کو یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ اسرائیل شہری آبادی کو خالی کیے بغیر رفح میں داخل نہیں ہوگا۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق۔ گانٹز نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے پاس ایسا کرنے کے طریقے ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے موصول ہونے والی سابقہ یقین دہانیوں پر یقین نہیں کر رہا۔

گانٹز کے وائٹ ہاؤس کے دورے نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی ناراض کیا اور انہوں نے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کو حکم دیا تھا کہ وہ اس دورے میں شریک ہو، نہ ہی گینٹز کی کسی بھی طرح مدد کرے۔

منگل کو امریکی ویب سائٹ Axios نے تین امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائی ممکنہ طور پر امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا باعث بنے گی۔

ان اہلکاروں جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی نے کہا کہ امریکی صدر بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں غزہ کی جنگ کے حوالے سے متضاد "ریڈ لائنز" قائم کی ہیں۔ اسرائیل کے رفح پر حملے کی صورت میں دونوں تصادم کی راہ پر جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ رفح میں کسی بھی اسرائیلی فوجی کارروائی سے امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ اس پالیسی کے تحت اقوام متحدہ میں اسرائیل کا دفاع کرنا بند کیا جاسکتا اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔ غزہ کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امریکہ 3 مرتبہ سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قراردادوں کے خلاف ویٹو پاور کا استعمال کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں