اسرائیل نے لبنان میں کار حملہ میں حماس رہنما کے مارے جانے کی ویڈیو شائع کردی

رہائشی علاقوں میں حملوں کے بعد لبنان سلامتی کونسل میں شکایت درج کرائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے حماس کے رہنما ہادی علی مصطفیٰ کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور بتایا کہ ان کی کار کو جنوبی لبنان کے شہر صور کے قریب نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے کہا کہ ’’ آئی ڈی ایف کے ایک طیارے نے لبنان کے صور کے علاقے میں حماس تنظیم کے بیرون ملک ایک اہم رکن ہادی علی مصطفیٰ پر حملہ کیا ۔ ہادی مصطفی تخریب کاری کے سیلز کو دنیا کے مختلف ملکوں میں اسرائیلی ا ور یہودی اہداف پر حملوں کی ہدایت دینے میں ملوث تھے۔

بدھ کو جنوبی لبنان میں صور ناقورہ روڈ پر اسرائیلی حملے میں دو افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہو گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ صور میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہادی مصطفیٰ کو نشانہ بنایا گیا۔ ہادی مصطفیٰ القسام کے رہنما تھے اور لاجسٹک سپورٹ کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔ اسرائیلی حملے میں ایک راہگیر شامی شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔

لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایک ڈرون نے جنوبی لبنان کے شہر صور کے جنوب میں ایک کار کو نشانہ بنایا۔ حملے کی جگہ شہر سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

الجدید ٹی وی نے آج اطلاع دی ہے کہ لبنان کی وزارت خارجہ 11 اور 12 مارچ کو بعلبک شہر اور آس پاس کے دیہات کے رہائشی علاقوں میں شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت پیش کرے گی۔

حماس رہنما مصطفی ھادی ۔  اسرائیل نے انہیں لبنان میں مار دیا
حماس رہنما مصطفی ھادی ۔ اسرائیل نے انہیں لبنان میں مار دیا

واضح رہے سات اکتوبر کو غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد پر کشیدگی جاری ہے۔

اکتوبر سے لے کر اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے 200 سے زیادہ جنگجو اور 50 کے قریب شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل پر لبنان کے حملوں میں تقریباً ایک درجن اسرائیلی فوجی اور چھ عام شہری مارے گئے۔ دسیوں ہزار اسرائیلی اور لبنانی سرحد کے دونوں طرف دیہات چھوڑ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں