امریکہ کی جانب سے پہلی بار آبادکاری بستیوں پر پابندیوں کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی دراندازی، جاری تشدد اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بار بار گرفتاریوں کے واقعات کے دوران توقع ہے کہ امریکی جو بائیڈن حکومت یہودی آبادکار بستیوں سے متعلق نئی پابندیوں کے احکام جاری کرے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ "ایکسیوس" کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے مغربی کنارے میں دو غیر قانونی بستیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی توقع ہے، جہاں سے فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملے شروع کیے گئے تھے۔

واضح پیغام

ایک امریکی اہلکار نے یہ بھی وضاحت کی کہ ان پابندیوں کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ واشنگٹن نہ صرف افراد بلکہ ان اداروں کو بھی نشانہ بنائے گا جو فلسطینی شہریوں کے خلاف حملوں میں معاونت کرتے ہیں۔

یہ پہلی بار ہو گا کہ امریکی پابندیاں افراد پر نہیں بلکہ پوری بستی پر لگائی جائیں گی۔

امریکی انتظامیہ نے اس سے قبل فلسطینی شہریوں کے خلاف حملے کرنے اور کروانے والے آباد کاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

گذشتہ دسمبر میں، امریکہ نے مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث افراد کو داخلے کے ویزے دینے پر پابندی لگانا شروع کی تھی۔

فرانس کی قیادت میں یورپی ممالک بھی اس سے قبل درجنوں انتہا پسند آباد کاروں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

اسرائیلی آباد کاروں کا ایک فلسطینی گھر پر حملہ
اسرائیلی آباد کاروں کا ایک فلسطینی گھر پر حملہ


مہلک ترین

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ سال مغربی کنارے کے رہائشیوں کے لیے کم از کم پچھلے 15 سالوں میں سب سے خونریز سال بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس سال 200 سے زائد فلسطینی اور 26 اسرائیلی مارے گئے ہیں۔

جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کی فائرنگ سے 380 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے روزانہ حملوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت 400,000 سے زیادہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں مقیم ہیں، جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ تقریباً 30 لاکھ فلسطینی بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں