فلسطین اسرائیل تنازع

رفح : 'اونروا' کے امدادی مرکز پر اسرائیلی فوج کا حملہ ، 1 کارکن ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم کیے گئے ادارے 'اونروا' کا ایک کارکن اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بمباری غزہ کے انتہائی جنوبی شہر رفح میں 'اونروا' کے امدادی مرکز پر کی گئی تھی۔

بمباری کے نتیجے میں 'اونروا' کے ایک کارکن کی ہلاکت کے علاوہ مزید 22 افراد زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ رفح کے اس مرکز میں پناہ گزینوں کے لیے خوراک کی تقسیم کا بندوبست کیا گیا تھا۔ جسے نقصان پہنچانے کے لیے حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس بمباری کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے اس سے پہلے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل کی فوج نے ایک 'ویئر ہاؤس' پر بمباری کی ہے۔ جس میں 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز 'اونروا' مرکز پر کی گئی اس بمباری کے بعد انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کے لیے تشویش اور بڑھ گئی ہے کہ غزہ میں ان کے کام کرنے میں کس حد تک چیلنج بڑھا ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج 7 اکتوبر سے مسلسل بمباری کر رہی ہے اور اس میں امدادی تنظیموں کے مراکز اور کارکن بھی اس کے نشانے پر ہیں۔ 'اونروا' سربراہ فلپ لازارینی نے کہا ہے 'اونروا' کے مرکز پر تازہ حملہ اس کے چند بچے کھچے چند مراکز میں سے ایک پر کیا گیا۔ جو قحط کی زد میں غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں میں خوراک کی تقسیم کے لیے قائم کیا گیا تھا۔'

لازارینی کا یہ بھی کہنا تھا 'اس مرکز کے بارے میں اسرائیلی فوج کو اقوام متحدہ نے بتا رکھا تھا اور اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ بھی تھا۔' دوسری طرف 'اونروا' کے ترجمان نے کہا ہے 'رفح میں قائم کیے گئے 'اونروا' مرکز کا بنیادی مقصد بھوکے پناہ گزینوں کے لیے کھانا اور زندگی بچانے کے لیے ضروری اشیاء کی فراہمی تھا۔'

اب تک کے اسرائیلی فوج کے حملوں کے دوران کم از کم 165 'اونروا' کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ ان 5 ماہ میں اسرائیلی فوج نے 'اونروا' کے 150 مراکز کو بمباری کر کے تباہ کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر 'اونروا' کے قائم کیے گئے سکول تھے۔

وہ ہم پر کیسے بمباری کر سکتے ہیں؟

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے ایک فوٹوگرافر نے بدھ کے روز اسرائیلی حملے کے متاثرین کو 'النجار ہسپتال' میں دیکھا۔ جن میں سے اقوام متحدہ کا ایک کارکن بھی تھا۔ دریں اثناء عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رفح میں اس حملے کے بعد خوف کی فضا میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ کہ اسرائیلی فوج نے رمضان کے دوران بھی اپنے حملوں میں کمی نہیں کی ہے۔

ایک مقامی فلسطینی سمیع ابوسلیم نے کہا 'ہمارے خیال میں 'اونروا' کا مرکز تو زیادہ محفوظ جگہ ہو سکتی تھی لیکن اسرائیلی فوج نے اس کو بھی نہیں چھوڑا۔' یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب بعض کارکن غزہ کے پناہ گزینوں میں خوراک تقسیم کرنے کے لیے پہنچے کہ اچانک دو میزائل مارے گئے۔

حسن ابوعودہ بیت حانون سے نقل مکانی کر کے رفح پہنچے ہیں۔ وہ خوراک کے حصول کے لیے 'اونروا' مرکز پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا 'یہ رمضان کا مبارک اور مقدس مہینہ ہے۔ وہ اس میں ہم پر کیسے بمباری کر رہے ہیں۔' خیال رہے کہ غزہ میں اب تک اسرائیلی بمباری سے 31272 فلسطینی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ 27 ہلاکتیں بھوک اور قحط کی وجہ سے ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں