سعودی رضا کار حرمین الشریفین میں حجاج کی خدمت کے لیے پیش پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہر سال پوری مملکت کے سعودی باشندے عازمینِ حج کی مدد اور حرمین الشریفین کے دورے کو ہر ممکن حد تک آسان بنانے کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنا وقت دیتے ہیں۔

مکہ میں زائرین ان نوجوان سعودی مرد و خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں اور لگن کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اپنے علم، صلاحیتوں اور مہارتوں کو غیر معمولی خدمات فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سعودی ویژن 2030 کے حصے کے طور پر مملکت 2030 تک 10 لاکھ رضاکاروں تک پہنچنے کے ہدف کے ساتھ رضاکارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

مکہ مکرمہ میں رضاکارانہ کاموں کا ایک وسیع سلسلہ ہے بشمول عازمین کی مسجد الحرام تک اور وہاں سے نقل و حمل میں مدد، ہوائی اڈے کی منتقلی کا انتظام ، پانی کی بوتلوں کی تقسیم، کھانا پیش کرنا اور غیر عربی بولنے والوں کے لیے ترجمہ کرنا۔

حجاج کی رہنما اور رضاکار رانیہ شودری نے کہا مکہ مکرمہ میں رضاکارانہ کام ان لوگوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے جو معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

شودری نے کہا مملکت میں رضاکاروں کے لیے مختلف شعبوں میں بہت سے مواقع موجود ہیں مثلاً سماجی خدمات، صحت کی نگہداشت، تعلیم، انسانی امداد، اور دعوت و رہنمائی۔ لوگ ہسپتالوں، سکولوں، سماجی خدمات کے دفاتر اور حرمین الشریفین میں بھی رضاکارانہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔

سعودی ویژن 2030 کے حصے کے طور پر مملکت 2030 تک 10 لاکھ رضاکاروں تک پہنچنے کے ہدف کے ساتھ رضاکارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)
سعودی ویژن 2030 کے حصے کے طور پر مملکت 2030 تک 10 لاکھ رضاکاروں تک پہنچنے کے ہدف کے ساتھ رضاکارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)

انہوں نے مزید کہا، رضاکار تقریبات اور پروگراموں کو منظم کرنے، ضرورت مندوں کے لیے نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنے اور آگاہی اور تعلیمی مہمات میں حصہ لینے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جو لوگ رضاکارانہ کام کرنا چاہتے ہیں وہ مکہ مکرمہ میں مقامی تنظیموں میں شامل ہو سکتے ہیں یا رضاکارانہ کام کو منظم کرنے اور رضاکاروں کی تربیت کے ذمہ دار حکام سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

شودری کے مطابق مملکت میں رضاکارانہ کام کے لیے اعلیٰ درجے کے نظم و ضبط اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض شعبوں میں اجازت نامے اور تربیت سے متعلق مخصوص تقاضے ہوتے ہیں۔ جگہ اور تقریب کی نوعیت کے لحاظ سے حفاظتی طریقۂ کار اور خصوصی پروٹوکول کا بھی اطلاق ہو سکتا ہے۔

حرمین الشریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے عرب نیوز کو بتایا کہ مسجد الحرام میں رضاکارانہ کام کے تین درجات ہیں جن کا انحصار ان کاموں کو انجام دینے کے لیے درکار مہارتوں پر ہے۔

درجۂ اول سب کے لیے کھلا ہے کیونکہ اس میں مہارتوں کے ایک سادہ سیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ درجۂ دوئم میں مشق اور تجربے کے ذریعے حاصل کردہ مہارتوں پر مبنی فرائض کی انجام دہی شامل ہے۔ سوئم پیشہ ورانہ درجہ ہے جس میں ان فرائض کی انجام دہی شامل ہے جن کے لیے مہارت اور ایک مخصوص تعلیمی سطح کی ضرورت ہوتی ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ اس کا مقصد رمضان کے اختتام تک 2500 رضاکاروں تک پہنچنے کا ہے۔

اتھارٹی نے مزید کہا، رضاکارانہ کام میں شامل ادارے سرکاری حکام، لائسنس یافتہ خیراتی اور نجی انجمنوں اور یونیورسٹیوں اور اداروں پر محیط ہیں۔

مسجدِ حرام اور صحن کے اندر معلومات 50 زبانوں میں دستیاب ہیں جن میں انگریزی، فرانسیسی، مالائی، فارسی، اردو، روسی، چینی، ہاؤسا، ترکی اور بنگالی شامل ہیں۔ ان مقامات پر ٹیمیں نماز کے اوقات، درس اور نمائش کے دورے کی تاریخوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

خطبات و اسباق کا لائیو ترجمہ، آن لائن لائیو سٹریمنگ اور وائرلیس ہیڈ فون بھی زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات میں شامل ہیں۔

اطلاعاتی کارڈز پر موجود بار کوڈز زبان اور ترجمہ ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ الیکٹرانک خدمات بشمول منارۃ الحرمین پلیٹ فارم تک رسائی کی سہولت فراہم کرتے ہیں جس پر حجاجِ کرام کئی زبانوں میں خطبات اور علمی اسباق کا لائیو ترجمہ سن سکتے ہیں۔

سعودی ویژن 2030 کے حصے کے طور پر مملکت 2030 تک 10 لاکھ رضاکاروں تک پہنچنے کے ہدف کے ساتھ رضاکارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)
سعودی ویژن 2030 کے حصے کے طور پر مملکت 2030 تک 10 لاکھ رضاکاروں تک پہنچنے کے ہدف کے ساتھ رضاکارانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ (فراہم کردہ)
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں