سعودی عرب :سیاحت کے شعبے میں 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا حصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے اپنی سیاحت کی صنعت میں پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری میں تقریباً 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کا مقصد ایک نیا سفری ہاٹ اسپاٹ بننے کے اپنے منصوبے سے وابستہ اخراجات کی لاگت کا اشتراک کرنا ہے۔

سعودی عرب کی نائب وزیر سیاحت شہزادی حیفا بنت محمد آل سعود کے مطابق سرمایہ کاری میں اگلے دو سالوں میں مزید ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ ہوٹلوں کے کمروں کا اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کا مقصد اس سال سیاحت کی آمدنی کو 2023 میں تقریباً 66 بلین ڈالر سے بڑھا کر 85 بلین ڈالر کرنا ہے۔

بلومبرگ میں شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ مملکت میں"جی ڈی پی میں موجودہ شراکت 4.5 فیصد ہے اور ہم اسے 2030 تک 10 فیصد تک بڑھانا چاہتے ہیں۔ جب ہم نے سیاحت کا دروازہ کھولا تو ہم نے 3.2 فیصد سے آغاز کیا تھا‘‘۔

وزارت سیاحت کے مطابق سعودی عرب نے 2023ء میں 106 ملین زائرین کی میزبانی کی، جنہوں نے ملکی معیشت میں 250 ارب ریال (66.66 بلین ڈالر) سے زیادہ کا حصہ ڈالا۔

سعودی عرب کو توقع ہے کہ 2030ء تک ولی عہد محمد بن سلمان کے معیشت کے وژن کے حصے کے طور پر سالانہ 150 ملین سیاح آئیں گے جس میں تیل سے دور اور کھیلوں اور ٹیکنالوجی سمیت صنعتوں کی طرف آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا شامل ہے۔

2023ء میں سعودی عرب نے 100 ملین سیاحوں کا ریکارڈ حاصل کیا، جن میں سے زیادہ تر مقامی باشندے تھے۔ بیرون ملک سے آنے والے سیاح تقریباً 27 ملین کی نمائندگی کرتے ہیں۔

حکومت کا مقصد 2030ء تک سیاحت میں 80 بلین ڈالر تک کی نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور اگلی دہائی میں اس صنعت پر تقریباً 800 بلین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں