فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ :اسرائیلی توانائی کمپنی کے ساتھ امارات نے2 ارب ڈالر کا معاہدہ معطل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے مسلسل جاری رہنے کی قیمت اسرائیلی کمپنیوں کو بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اسی جنگ کی وجہ سے اسرائیلی توانائی کے ساتھ دو ارب ڈالر کا معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ اسرائیلی کمپنی نے اس امر کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

توانائی کمپنی کے حصص اسرائیل میں بھی آٹھ فیصد گر گئے ہیں۔BP Plc اور متحدہ عرب امارات کی ریاستی توانائی فرم نے اسرائیل کی NewMed Energy میں ایک بڑا حصص خریدنے کے لیے $2 بلین کی بولی کو معطل کر دیا، نیو میڈ کے ایک بیان کے مطابق معطلی ماحول میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال بنی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں ابراہم معاہدے کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اور اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ جبکہ اسرائیلی کمپنی کے ساتھ اس معاہدے کا اعلان ایک سال پہلے مارچ 2023 میں کیا گیا تھا۔

یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے معمول پر آنے کے بعد مالیاتی تعلقات کی نوعیت کی بلندی کا اشارہ تھا۔ کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔

لیکن بعد ازاں غزہ میں اسرائیلی جنگ کے باعث اس سلسلے میں مزید پیش رفت اور مذاکرات رک گئے۔ اب ماعہدہ معطلی کا اعلان بھی اسی جنگ کے سبب سامنے آیا ہے کہ اسرائیل میں بے یقینی کی صورت حال میں سرمایہ کاری کرنا کسی بھی کمپنی یا ملک کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 31272 فلسطینیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ ان قتل کیے گئے افراد میں دوتہائی عورتیں اور بچے ہیں۔ جبکہ 27 فلسطینی اب تک بھوک اور قحط سے مر گئے ۔ ان میں بھی بچے شامل ہیں۔ لیکن اسرائیل ہے کہ رمضان المبارک میں بھی جنگ بندی کرنے کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں