' رائٹرز' کے لبنانی رپورٹر کو اسرائیلی فوجی ٹینک نے جانتے بوجھتے ہلاک کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کی طرف سے سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13 اکتوبر کو اسرائیلی ٹینک نے واضح طور پر پہچانے جانے والے صحافی اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے رپورٹر اعصام عبداللہ کو گولہ باری کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اعصام عبداللہ پر اسرائیلی ٹینک نے 120 ملی میٹر کے دو گولے فائر کیے تھے۔ یہ کسی صحافی کو پہچانتے وئے اور جانتے بوجھتے ہوئے قتل کرنا تھا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ یہ تحقیقاتی رپورٹ لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فوج ( یو این آئی ایف آئی ایل ) نے مرتب کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ' ٹینک کے گولوں سے جب اعصام عبداللہ کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے پہلے چالیس منٹ تک اسرائیلی یا لبنانی فوج کے درمیان فائرنگ یا گولہ باری کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل فوج نے مرکاوا ٹینک سے خبر رساں ادارے کے رپورٹر پر دو گولے داغ دیے۔'

واضح رہے شہریوں پر فائرنگ، شناخت کیے جانے کے قابل صحافیوں کو فائرنگ سے نشانہ بنانا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1701 اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے یہ سات صفحات پر مبنی رپورٹ 27 فروری کو سامنے آئی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک صحافی کو اس طرح نشانہ بنانے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 کے تحت ہی اقوام متحدہ کی فوج کی عبوری تعیناتی اسرائیل لبنان سرحد پر 2006 میں کی گئی تھی۔ تاکہ 120 کلو میٹر کی سرحد پر جنگ بندی کو مانیٹر کر سکے۔

اسرائیل لبنان سرحد جسے بلیو لائن بھی کہا جاتا ہے پر تعیناتی یہ یو این فوج جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرتی ہے اور کوئی بڑا واقعہ ہو تو اس کی تحقیقات بھی کرتی ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہےے کہ اعصام عبداللہ کی ہلاکت کے علاوہ ٹینک کے دو گولوں سے مزید چھ صحافی اس واقعہ میں زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے اس رپورٹ کے آنے کے بعد اپنے تبصرے میں کہا ہے' 13 اکتوبر کو اسرائیلی کمیونٹی ہانیتا کے قریب حزب اللہ نے اسرائیلی فوج پر حملہ کیا تھا۔ اس خطرے کو دور کرنے کے لیے فوجی ٹینک سے گولے فائر کیے گئے تھے، بعد ازاں اطلاع ملی کہ صحافی زخمی ہو گئے ہیں۔ '

اسرائیلی فوج کو کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے زخمی ہونے پر افسوس ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے۔ یہ واقعہ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا کہ سویلین کا کسی صحافی کو قتل کیا جائے۔ اسرائیلی فوج آزادی صحافت کو اہم خیال؛ کرتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ واضح کرتی ہے کہ جنگ والے علاقے میں موجود ہونا خطرناک ہوتا ہے۔'

اسرائیلی فوجی ترجمان نے 13 ااکتوبر 2023کو پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں مزید کہا ' اسرائیلی فوج کا جنرل سٹاف کا فیکٹ فائنڈنگ سے متعلق شعبہ اس واقعے کے بارے میں بھی چھان پھٹک کرتا رہے گا۔ خیال رہے اسرائیل فوج کا یہ شعبہ اپنی رپورٹ فوج کے قانونی امور کے شعبے کو جمع کراتا ہے جو بعد میں فیصلہ کرتا ہے کہ آیا یہ واقعہ کسی مجرمانہ تفتیش کے لائق ہے یا نہیں ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اعصام عبداللہ کی اسرائیلی فوجی ٹینک سے ہلاکت کی رپورٹ 28 فروری کو اقوام متحدہ کے دفتر نیویارک میں جمع کرادی گئی نیز لبنانی فوج کو بھی اس کی کاپی بھیجی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے اسرائیلی فوج اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے تاکہ آئندہ اس نوعیت کا واقعہ دوبارہ نہ ہو سکے۔ تاہم لبنانی سرحد پر یو این فورس کی ترجمان نے اس بارے میں کسی بھی تبصرے سے معذرت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں