اسرائیل:فوجی جنرل کی سیاسی قیادت پر تنقید،اعلیٰ فوجی کمان نے جواب طلبی کے لیے بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں تعینات اسرائیلی جرنیل نے اپنے سیاسی قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بریگیڈئیر جنرل ڈین گولڈ فس غزہ میں لڑنی والی اسرائیل کی 98 ویں ڈویژن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی حاضر سروس فوجی جرنیل حکومت یا سیاسی قائدین کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنائے۔

بریگیڈ ئیر جنرل ڈین گولڈ فس نے یروشلم میں عوام کے سامنے سیاسی قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کو قابل بھروسہ اور قیادت کے لائق ہونا چاہیئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیاسی قیادت پر تنقید کے فوری بعد مذکورہ جنرل کو اعلی کمان نے جواب دہی کے لیے طلب کرلیا ہے ۔

خیال رہے بریگیڈئیر جنرل ڈین گولڈ فس نے نہ صرف یہ کہ ایک پرانی فوجی روایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی قیادت پر تنقید کی ہے اور سیاست میں مداخلت کی کوشش کی ہے بلکہ دوران جنگ حکومت اور فوج کے درمیان ناراضگی اور اختلاف کا تاثر پیداکیا ہے۔

واضح رہے کہ جنرل ڈین جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں تعینات ہیں جہاں انہیں سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اسرائیلی حکومت ابھی مزید جنوب میں رفح شہر میں مزید حملے کے لیے کہہ رہی ہے ۔ اسرائیلی حکومت اور فوج کے درمیان انتہا پسند یہودیوں کے لیے لازمی سروس کی شرط کو نرم کرنے پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے خلاف اس عوامی سطح پر کیے گئے فوجی کے تبصرے کو اسرائیلی ٹی وی چینل نے بھی نشر کیا ہے ۔ جنرل ڈین کا زور دے کر کہنا تھا کہ فوجی قیادت اور سیاسی قیادت کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیئے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو جنہوں نے ابھی تک 7 اکتوبر کے حماس حملوں کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کی ذمہ داری ابھی تک اپنے اوپر نہیں لی کو جنرل ڈین گولڈ فس نے کہا ہم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے نہیں بلکہ اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں ۔ لیکن ہم آگے بھی بڑھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں 249 اسرائیلی فوجی حماس کے ہاتھوں مارے گئے ہیں ان ہلاکتوں کو اسرائیلی فوج بھی تسلیم کرتی ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں