رفح میں داخل ہونگے اور حماس کے خاتمے کا مشن مکمل کرینگے: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوجی اڈے ’’عوفر‘‘ کے دورے کے دوران ایک بیان میں فوج کو رفح میں داخل ہونے سے روکنے کے بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کر دیا۔ یروشلم پوسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے 636 فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ کے کمانڈروں اور فوجیوں سے ملاقات کی ۔ نیتن یاھو نے کہا جس وقت اسرائیلی فوج رفح میں لڑائی جاری رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، اسی دوران ہمیں علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے میں اس دباؤ کا مقابلہ کروں گا۔

نیتن یاہو نے مزید کہا"ہم رفح میں داخل ہوں گے اور اسرائیلی عوام کی سلامتی کو بحال کرنے اور ملک کیلئے مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے حماس کو ختم کرنے کے اپنے مشن کو مکمل کریں گے۔" واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم امریکیوں کو اپنے موقف اور رجحانات پر قائل کرنے کے لیے دباؤ کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واشنگٹن میں اسرائیل کے حامی گروپ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی کو ویڈیو کے ذریعے دی گئی ایک تقریر میں انہوں نے تل ابیب کے موقف کا بھرپور دفاع کیا اور زور دیا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کیا ہے۔

یاہو نے یہ بھی کہا کہ اتحادی اور دوست یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ حماس کو تباہ کرنے کے اسرائیل کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں۔ پھر وہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمارے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔

عالمی تنظیموں کا انتباہ

کئی بین الاقوامی تنظیموں، مغربی اور عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ رفح پر کوئی بھی حملہ بڑی تباہی کا باعث بنے گا۔ رفح میں اس وقت تقریبا 14 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا کہ پوری پٹی میں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے اور اس لیے رفح کے بے گھر افراد کو منتقل نہیں کیا جا سکتا اور اس مسئلے پر بات کرنا ایک خیالی بات ہے۔ مصر نے بھی رفح پر زمینی حملے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے تناظر میں انتباہ کیا ہے۔

بھوک کے ڈیرے

غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال بدستور ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 22 لاکھ افراد کی آبادی میں بے بڑا حصہ "بڑے پیمانے پر فاقہ کشی" کے خطرے سے دوچار ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ غزہ میں امداد کا داخلہ اسرائیلی اجازت سے مشروط ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں