مشکل وقت میں فلسطینی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والے محمد مصطفیٰ کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین کے علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران مشکل حالات میں فلسطینی صدر محمود عباس نے کل شام اقتصادی مشیر محمد مصطفیٰ کو انیسویں حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری سونپی ہے۔

یہ شخص کون ہے جس کی تقرری کا وائٹ ہاؤس نے خیر مقدم کیا؟

69 سالہ مصطفیٰ سیاسی طور پر ایک آزاد ماہر معاشیات ہیں

اگرچہ انہوں نے 2014 میں حماس کی شمولیت سے تشکیل پانے والے قومی معاہدے کی حکومت میں نائب وزیر اعظم اور وزیر اقتصادیات کے طور پر کام کیا، لیکن وہ ایک سال تک اس عہدے پر رہے۔

انہوں نے 2014ء میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا پروگرام شروع کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں۔

انہوں نے فلسطین انوسٹمنٹ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

وسیع بین الاقوامی تجربہ

ان کے پاس پندرہ سال تک واشنگٹن میں ورلڈ بینک میں کام کرنے کا بین الاقوامی تجربہ ہے۔

محمود عباس(دائیں جانب) محمد مصطفی(بائیں جانب)
محمود عباس(دائیں جانب) محمد مصطفی(بائیں جانب)

اس کے علاوہ وہ اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے کویتی حکومت کے اقتصادی مشیر رہ چکے ہیں۔

انہوں نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں بطور وزیٹنگ پروفیسر بھی خدمات انجام دیں۔

اس تناظرمیں سیاسیات اور معاشیات کے پروفیسر عبدالمجید سویلم نے بتایا کہ مصطفیٰ کی تقرری "ایک قسم کی قلعہ بندی ہے جسے عباس اسرائیلی حق کی طرف سے قومی چیلنجوں کے مقابلہ میں چاہتے تھے، جس میں ہر اس چیز کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو فلسطینی ہے"۔

انہوں نے اسے "قومی خودی کی تعمیر نو کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ فلسطینی اتھارٹی میں کچھ خامیاں دور کرنے کی کوشش ہے۔ صدر محمود عباس اسرائیل اور واشنگٹن دونوں کی طرف سے محاصرے اور دباؤ میں ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ نامزد وزیر اعظم کو "امریکیوں کے لیے قابل قبول سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ لبرل نقطہ نظر کی پیروی کرتے ہیں"۔

اپنی طرف سے فلسطینی ماہر اقتصادیات محمد ابو جیاب نے رائیٹرز کو بتایا کہ "ہر کوئی بحران کا شکار ہے۔ مغربی کنارے میں فتح بحران کا شکار ہے اور حماس بھی غزہ کی پٹی میں مشکل میں ہے۔ مصطفیٰ دونوں کے لیے باہر نکلنے کے راستے کی نمائندگی کر سکتے ہیں‘‘۔

غزہ میں ایک کردار

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصطفیٰ کی تقرری سابق وزیر اعظم محمد اشتیہ کی جگہ پر عمل میں آئی ہے، جنہوں نے 20 دن قبل استعفیٰ دے دیا تھا۔

نو منتخب وزیراعظم کو ایک بہت بڑا انتظامی اور سفارتی مشن بھی درپیش ہو گا، جب غزہ کے بڑے علاقوں کو ملبے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ر اس کی زیادہ تر آبادی، 2.3 ملین افراد بے گھر ہو گئے ہے کو امداد کی ضرورت ہے۔

غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی
غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی

اوسلو معاہدے کے نام سے جانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت تین دہائیاں قبل قائم کی گئی فلسطینی اتھارٹی مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر محدود حکمرانی کرتی ہے۔

لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد یہ غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، حالانکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پٹی کے انتظام میں اس کی شرکت کی سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں