ہسپانوی کمپنی کا جہازامدادی سامان لے کر قبرص سے غزہ پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر قبرص سے آنے والا پہلا بحری جہاز غزہ کی ساحلی پٹی تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے جمعہ کے روز بتائی ہے، خبر رساں ادارے نے یہ امدادی جہاز جمعہ کے روز غزہ کے نزدیک ساحل پر دیکھا ہے۔ امدادی سامان کی فراہمی میں متحدہ عرب امارات نے مدد کی ہے۔

خبر رساں ادارے سے وابستہ ایک صحافی نے بتایا کہ ایک نئے بحری راستے کے ذریعے محصور غزہ کی پٹی کی طرف جانے والا پہلا امدادی جہاز جمعہ کو جنگ زدہ علاقے کے ساحل سے دکھائی دے رہا تھا۔

جبکہ فوٹیج میں ہسپانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ سے زیادہ کی جنگ کے بعد قحط کا شکار غزہ کے باشندوں کے لیے ' اوپن ارمز' 200 ٹن خوراک لے کر غزہ روانہ ہوا تھا۔ واضح رہے اس جہاز نے چند روز قبل قبرص سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اب یہ غزہ کے ساحل سے پانچ کلو میٹر کے قریب پہنچ چکا ہے۔

غزہ میں قحط کی زد میں فلسطینی بے گھر شہریوں کی ایک چھوٹی سی ٹکری کو جمعہ کے روز ساحل پر کھڑے دیکھا گیا ہے۔ یہ اس امید پر ساحل پہنچھے تھے کہ امدادی جہاز کے لنگر انداز ہوتے ہی انہیں خوراک کی دستیابی ممکن ہو جائے گی۔ اب تک غزہ میں 27 فلسطینی خوارک کی عدم دستیابی کے باعث بھوک سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے اس امدای خوارک کے لیے فنڈنگ متحدہ امارات کی طرف سے کی گئی ہے تاہم یہ امریکہ کے ایک سرکاری ادارے کے توسط سے قبرص سے غزہ کے ساحل تک پہنچا ہے۔ قبرص میں ایک اور بحری جہاز اسی مقصد کے لیے غزہ روانگی کے لیے تیاری کے مرحلے میں ہے۔

تاہم، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آکسفام سمیت 25 تنظیموں نے اپنےایک حالیہ مشترکہ بیان میں قرار دیا ہے کہ بحری اور ہوائی جہاز غزہ کے لاکھوں ضرورت مندوں تک خوراک پہنچانے کا زمینی راستے سے خوراک پہنچانے کا متبادل نہیں ہو سکتے ہیں۔

غزہ کی فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کر کے اب تک کم از کم 31,341 افراد قتل کر دیے ہیں۔ ایک اور ذریعے کے مطابق زخمیوں کی تعداد 100000 ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں