انسانی حقوق کی تنظیموں کی اسرائیلی جیلوں میں ’منظم بدسلوکی‘ کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے سائے میں ریکارڈ تعداد میں فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں بھر رہے ہیں جہاں انہیں "منظم بدسلوکی" اور تشدد کا سامنا ہے۔ تنظیموں نے بدسلوکی کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کئی اسرائیلی این جی اوز کے اراکین نے اس ہفتے جنیوا کا دورہ کیا تاکہ اقوام متحدہ کے سامنے ملک کی جیلوں کے اندر ایک بڑے "بحران" کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا سکے۔

اسرائیل میں تشدد کے خلاف عوامی کمیٹی (پی سی اے ٹی آئی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹال سٹینر نے کہا، "ہم انتہائی شدت سے فکر مند ہیں۔"

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ ایک بحران ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی ذرائع کے مطابق سات اکتوبر سے اب تک نو افراد مبینہ طور پر سلاخوں کے پیچھے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اور "اس وقت تقریباً 10,000 فلسطینی اسرائیلی حراست میں ہیں جو کسی بھی عام سال سے 200 فیصد اضافہ ہے"۔

جبکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں نے طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی نظربندوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے تو سٹینر نے کہا غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے صورتِ حال ڈرامائی طور پر خراب ہو گئی ہے۔

یہ تنازعہ سات اکتوبر کو حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے بعد شروع ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کے جوابی حملے میں حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں اب تک 31,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

عدالہ قانونی مرکز کی مریم اعظم نے کہا، "غزہ پر فوجی حملے کے دوران اسرائیلی حراستی مراکز اور جیلوں کے اندر ایک ایسا بحران پیدا ہوا ہے جسے واقعی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔" یہ مرکز اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی تنظیم 7 اکتوبر سے ہی اسرائیلی جیل کے نظام میں تشدد بشمول جنسی تشدد کے "19 واضح کیسز" کو دستاویز کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

"ہم فلسطینیوں پر تشدد اور ناروا سلوک کرنے کے لیے بہت زیادہ ذرائع کا واقعی وسیع اور منظم استعمال دیکھ رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اس بحران میں "بین الاقوامی برادری کی فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔"

سٹینر نے خبردار کرتے ہوئے کہ یہ "ایک جاری بحران ہے"، اس بات سے اتفاق کیا۔

"لوگ اس وقت حراست میں (تکلیف کا شکار ) ہیں... ایک فوری مداخلت کی بہت ضرورت ہے۔"

اسرائیلی جیل سروس نے اے ایف پی کو بتایا: "تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق حراست میں لیا گیا ہے۔"

ترجمان نے کہا کہ سروس اپنے خلاف "مذکورہ دعوؤں سے آگاہ نہیں تھی" لیکن اس بات پر زور دیا کہ زیرِ حراست افراد کی کسی بھی شکایت کی "سرکاری حکام کی طرف سے مکمل جانچ ہو گی اور ان کا ازالہ کیا جائے گا"۔

این جی اوز نے بھی غزہ کے اندر فوجی کیمپوں میں زیرِ حراست افراد کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔

سٹینر نے کہا کہ اکتوبر سے اب تک ایسے کیمپوں میں مبینہ طور پر کم از کم 27 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید کہا کہ یہ واقعہ "بے مثال اور انتہائی شدید" تھا۔

انہوں نے کہا کہ کیمپوں تک رسائی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی تنظیم یا غیر ملکی صحافیوں کو رہائی پانے والوں سے بات کرنے کے لیے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔

لیکن کیمپ کے سابق قیدیوں کی گواہی پر انحصار کرنے والی رپورٹس بتاتی ہیں کہ نظربندوں کو اکثر "کھلی ہوا کے پنجروں میں" رکھا جاتا ہے جہاں "انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوتی ہیں اور 24 گھنٹے آنکھوں پر پٹی بندھی رہتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کو مبینہ طور پر سردی میں پنجروں کے فرش پر سونا پڑتا تھا، انہیں مارا پیٹا جاتا اور طبی امداد سے محروم رکھا جاتا تھا۔

اگرچہ کوئی سرکاری تعداد نہیں ہے لیکن این جی اوز کا اندازہ ہے کہ اس وقت تقریباً 1,000 افراد کیمپوں میں زیرِ حراست ہیں۔

سات اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر گرفتار کیے گئے غزہ کے مزید 600 افراد اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں۔

سٹینر نے نشاندہی کی کہ غزہ میں زیرِ حراست تمام افراد جن میں بچے اور مبینہ طور پر ایک 82 سالہ خاتون بھی شامل ہیں، اسرائیل کے غیر قانونی جنگجو قانون کے تحت قید ہیں۔ یہ قانون عموماً قیدیوں اور جنگی قیدیوں کو دیئے جانے والے تحفظات سے انکار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، "قانون اپنی موجودہ شکل میں غیر آئینی ہے۔"

سٹینر اور اعظم جو کہ دونوں اسرائیلی شہری ہیں، نے کہا کہ سات اکتوبر سے اسرائیل میں فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا تھا اور انہیں دھمکیوں اور زبانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔

سٹینر نے کہا، "یہ رہنے کے لیے آسان جگہ نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ حماس کے حملے سے ہونے والے صدمے اور یرغمالیوں کی قسمت پر شدید تشویش قابلِ فہم ہے لیکن "یہ آپ کو تشدد کا جواز نہیں دے دیتا"۔

سٹینر نے کہا، "یہ صرف ہم بمقابلہ وہ کا سوال نہیں ہے۔ یہ ہم بمقابلہ ہم ہے۔"

"اگر اسرائیل یہ ثابت کر سکے کہ وہ اپنے بدترین دشمنوں کو بھی انسانی حالات میں رکھتا ہے تو یہ ایک فتح ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں