حماس بعض مطالبات سے دست بردار مگر جنگ بندی مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کےلیے دونوں فریقین کے درمیان جاری مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے غزہ کے انتہائی جنوبی شہر رفح میں فوجی آپریشن کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حماس کی طرف سے جنگ بندی مذاکرات میں لچک دکھانے کے بعد ایک اسرائیلی وفد جلد ہی قطر پہنچے گا"

حماس بعض مطالبات سے دست بردار

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کرنےوالے کچھ ثالثوں کا خیال ہےکہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے حماس کے مطالبات میں لچک اور مستقل جنگ بندی کے مطالبات کو ترک کرنے کے بعد دونوں کے موقف کو کافی قریب کر دیا ہے۔

’وال اسٹریٹ جنرل‘ کے مطابق اس تناظرمیں مصری حکام اور حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ حماس نے اپنی پوزیشن میں نرمی کی ہے۔ کچھ ثالث ممالک نے اس پر دباؤ بڑھایا ہے اور دھمکی دی کہ اگر وہ غزہ میں تحریک کے رہ نماؤں کو راضی کرنے میں ناکام رہے تو اس کے متعدد عہدیداروں کو دوحہ سے نکال دیا جائے گا۔

اگرچہ حماس پہلے ہی اپنے سابقہ مطالبے سے پیچھے ہٹ چکی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل گزشتہ ہفتے رمضان کے مہینے سے قبل مذاکرات کے خاتمے کے بعد 40 یرغمالیوں کے بدلے جیلوں سے 3000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے۔

جب کہ اس کے نئے موقف میں 1000 فلسطینی قیدیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے جن میں سے 100 عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ انہیں 40 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا کرنےکی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسی طرح ہرپانچ اسرائیلی خواتین فوجیوں کے بدلے 250 فلسطینی قیدیوں کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ حماس نے مستقل اور جامع جنگ بندی کا مطالبہ ترک کر دیا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے عارضی جنگ بندی کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم اب بھی ایسے ٹھوس نکات موجود ہیں جو کسی معاہدے تک پہنچنے سے روکتے ہیں، کیونکہ حماس نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے قیدی اب بھی زندہ ہیں، اور مصری حکام کے مطابق اسرائیل جنوب میں تمام بے گھر فلسطینیوں کو آزادانہ طور پر شمال کی طرف واپس جانے کی اجازت دینے کو قبول نہیں کرے گا۔

نیز تل ابیب نے لڑائی کی عمر کے مردوں کو واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جبکہ حماس کا مطالبہ ہے کہ پورے خاندانوں کو پٹی کے شمال اور مرکز میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

پیش رفت ندارد

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو دوحہ جانے والی مذاکراتی ٹیم کے لیے ایک فریم ورک طے کرنے کے لیے ہفتے کی شام ایک اور حکومتی اجلاس منعقد کرنے کا امکان ہے۔

لیکن عہدیدار نے جلد ہی اس معاملے میں کسی پیش رفت کے امکان کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہے‘‘۔ ان کا اشارہ رفح جہاں لاکھوں بے گھر فلسطینی موجود ہیں میں فوجی کارروائی کی طرف تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے وضاحت کی کہ کابینہ کے اجلاس کے بعد اتوار یا پیر کو موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی قیادت میں اسرائیلی مذاکراتی ٹیم قطر جائے گی۔

یہ پیش رفت اس ہفتے کے مذاکرات کاروں کے رمضان کے مہینے سے پہلے کسی جنگ بندی تک پہنچنے میں ناکام ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں