غزہ کے مستقبل کا تعین کیے بغیر حماس کو ختم نہیں کیا جا سکتا: گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ پر جنگ کے انتظام پر اسرائیلی حکومت کو اب بھی اختلافات کا سامنا ہے۔ بنجمن نیتن یاہو نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ جنگ کو حماس کے خاتمے کے بعد ہی روکا جائے گا۔

"مستقبل کا تعین کرو"

تاہم جنگ کے بعد "غزہ کی حکمرانی" کا مسئلہ اب بھی سوالیہ نشان ہے، کیونکہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے حکومت کے منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد کے دن کے مسئلے کو حل کیے بغیر اسرائیل حماس کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ اس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ غزہ کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

انہوں نے مزید کہا کہ فوج یہ فیصلہ نہ کرنے کی قیمت ادا کر رہی ہے کہ جنگ کے بعد غزہ پر کون حکومت کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے بعد پٹی میں طرز حکمرانی کا سب سے زیادہ امکان مقامی عناصر کو مضبوط کرنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی حکمرانی سے اسرائیلی فوجیوں کی جانیں ضائع ہوں گی اور فوجی وسائل ختم ہو جائیں گے۔

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ابہام اور اختلاف غزہ کی پٹی کے مستقبل اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی جانے والی خونریز جنگ کے بعد اس کی حکمرانی پر اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اس نئے منصوبے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اسرائیلی فریق فلسطینیوں کو تربیت دے گا خاص طور پر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی قیادت میں فتح کے کارکنوں کو تاکہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کریں۔

نیز، مذکورہ بالا منصوبہ جو حالیہ ہفتوں میں سیاسی قیادت کے سامنے پیش کیا گیا تھاکا مقصد حماس کے ہاتھ میں انسانی امداد اور خوراک کو پہنچنے سے روکنا، تحریک کو طاقت اور فیصلہ سازی کے حلقوں سے باہر دھکیلنا، وسطی اور شمالی غزہ میں غزہ کی پٹی کو مربوط کرنا، جنگ کے بعد غزہ میں فلسطینی حکومت کے قیام اور تعمیر نو کے لیے ضروری بنیادیں فراہم کرنا شامل تھا۔

فلسطینی انٹیلی جنس سروس کے ڈائریکٹر ماجد فرج کو غزہ کے اندر 4000 سے 7000 فتح کے کارکنوں کی شناخت کرنی تھی تاکہ اسرائیل ان کا جائزہ لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے اور حماس کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں تل ابیب انہیں ایک قابل عمل سکیورٹی فورس کے طور پر تربیت دینے کے لیے غزہ سے باہر نکالےگا۔

اس تربیتی عمل کی نگرانی اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے لیے سکیورٹی کوآرڈینیٹر امریکی جنرل مائیکل بینزیل بھی کرنے والے تھے۔

اخبار کے دعویٰ کے مطابق ماجد فرج نے اس منصوبے کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

"سوئٹزرلینڈ سے سیکورٹی اہلکار!"

تاہم یہ منصوبہ اس وقت ختم ہو گیا جب اسے نیتن یاہو کے سامنے پیش کیا گیا۔ نیتن یاھو نے غزہ میں "آنے والے وقت" کے منظر نامے میں فلسطینی اتھارٹی کے ملازمین کی شرکت کو مسترد کردیا۔

اس سے کئی سیاسی شخصیات کی جانب سے نیتن یاہو پر شدید تنقید کی گئی۔

ایک اہلکار نے یہاں تک کہاکہ "شاید نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ ہم غزہ کو چلانے کے لیے سوئٹزرلینڈ سے سکیورٹی اہلکار لے کر آئیں"۔

بہت سی معلومات نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ واشنگٹن ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جوبدعنوانی یا سیاسی غفلت کے الزامات سےپاک ہو اور وہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو متحد کرنے کے بعد غزہ میں جاری جنگ کے بعد کے معاملات کو بہتر انداز میں سنھبال سکے۔

جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ نئی حکومت دھڑوں کے بغیر ہوگی۔ اس کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کی حماس نئی حکومت کاحصہ نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں