فلسطینی وزیر اعظم کی نامزدگی، حماس کی یک طرفہ فیصلے پر محمود عباس پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس نے جمعہ کے روز فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی طرف سے یکطرفہ فیصلے کے ذریعے وزیر اعظم کی تقرری کا علان کیے جانے پر تنقید کی ہے۔ اس منصب کے لیے محمود عباس نے ایک بڑے فلسطینی کاروباری شخص محمد مصطفیٰ کو وزیر اعظم مقرر کیا ہے۔

محمود عباس کا یہ اعلان غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دنوں میں بعد از حماس آپشنز کے اسرائیل اور امریکہ میں زیر بحث آنے اور فلسطینی اتھارٹی کی اہلیت پر سوال اٹھائے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی محدود اختیارات کے ساتھ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ قائم ہے۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے 'ایک یکطرفہ فیصلے کے بارے میں کہا گیا ہے ماسکو میں باہمی رابطوں کے باوجود فلسطینی اتجھارٹی کا یہ یکطرفہ فیصلہ قابل قبول نہیں ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بغیر مشاورت کے ایسا فیصلہ کرنا فلسطینیوں میں اختلاف کو جاری رکھنے کی شعوری کوشش ہے۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے 'فلسطینی کاز کو خیال میں رکھے بغیر اور باہمی مشاورت نہ کر کے یکطرفہ انداز میں حکومت کی تشکیل تقسیم کو بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس فیصلے سے پہلے مشاور ضروری تھی۔'

بیان کے مطابق اس وقت تو قوم کو متحد کرنے کی زیادہ ضرورت ہے، فلسطینیوں کو اسرائیل سے جنگ کے دنوں میں مشترکہ حکومت کی ضرورت ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں