فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر کا نیتن یاھو سے مذاکرات بند کرکے رفح پرفوری حملے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے مذہبی انتہا پسند وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے مذاکراتی ٹیم کو قطر جانے سے روکنے اور غزہ کے انتہائی جنوبی شہر رفح میں فوری طور پر فوج داخل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

"راستہ بھٹک گئے "

انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کہا کہ "حماس کا خیالی موقف ظاہر کرتا ہے کہ جنگی حکومت اور سکیورٹی اداروں میں معاہدے کے حامی اپنا راستہ کھو چکے ہیں"۔ وہ قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ معاہدے پر حماس کے ردعمل کا حوالہ دے رہے تھے۔

"فوراً رفح پر حملہ کر دو"

انہوں نے مزید کہاکہ "نیتن یاہو کو مذاکراتی وفد کو قطر نہیں بھیجنا چاہیے اور فوج کو فوری طور پر رفح میں داخل کرنا چاہیے۔ حماس کے تباہ ہونے تک فوجی دباؤ بڑھانا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہو سکے گی"۔

"قطر میں اسرائیلی وفد"

اس تناظر میں اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی سربراہی میں اسرائیلی وفد اتوار کو نہیں بلکہ پیر کے روز قطر کے لیے روانہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کل شام ساڑھے سات بجے وزارتی کونسل برائے سیاسی اور سلامتی امور کے اجلاس کے بعد وفد کا سفر متوقع ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنے ذرائع سے اطلاع دی تھی کہ برنیا اور اسرائیلی وفد اگلے پیر کو جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے قطری دارالحکومت دوحہ روانہ ہوں گے۔

اخبار نے وزیر اعظم کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنگی کونسل نے مذاکراتی وفد کے قطر روانہ ہونے کے معاملے پر بات چیت کی۔

اسرائیل نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے رفح میں حملہ کرنے کے لیے فوج کے "ایکشن پلانز" کی منظوری دے دی ہے۔ رفح مصر کے ساتھ بند سرحد سے متصل علاقہ ہے اور جہاں بڑی تعداد میں شمالی غزہ، جنوب اور وسطی علاقوں سے شہریوں نے اسرائیلی حملے سے بچنے کے لیے پناہ لے رکھی ہے۔

امریکہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری اسرائیل کو رفح میں وہاں موجود لاکھوں لوگوں کی حفاظت کے کسی پلان کے بغیر حملے پر بار بار خبردار کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں