اسرائیل کے انتخابات کے مطالبے والی چک شومر کی تقریر 'نامناسب' ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز سی این این کو بتایا کہ امریکی سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر کی تقریر "بالکل نامناسب" تھی جس میں انہوں نے اسرائیل میں نئے انتخابات پر زور دیا۔

جمعرات کو سینیٹ کے فلور پر ایک تقریر میں اسرائیل کے دیرینہ حامی اور اعلیٰ ترین یہودی امریکی منتخب عہدیدار شومر نے اسرائیل میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا، نیتن یاہو امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

نیتن یاہو نے سی این این کے انٹرویو میں کہا، "میرے خیال میں انہوں نے جو کہا وہ بالکل نامناسب ہے۔ ایک برادرانہ جمہوریت میں جانا اور وہاں کی منتخب قیادت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا نامناسب ہے۔"

تقریر میں نیتن یاہو کے حوالے سے واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی مایوسی، حماس کے ساتھ جنگ کا انتظام، فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کچھ کرنے میں ناکامی اور غزہ میں امداد کی ترسیل میں رکاوٹ کی عکاسی کی گئی۔ ساحلی انکلیو میں ہلاکتوں اور غذائی قلت کے بحران کی وجہ سے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

شومر نے کہا، اسرائیل کے لیے دو ریاستی حل کو مسترد کرنا ایک "سنگین غلطی" ہو گی اور انہوں نے اسرائیل-غزہ تنازعہ کے مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی، یرغمالیوں کو آزاد کرانے اور غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز شومر کے تبصرے کو "اچھی تقریر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصروں میں بہت سے امریکیوں کے خدشات کی بازگشت تھی۔

اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے اتوار کو کہا، بائیڈن کا خیال ہے کہ یہ اسرائیل پر منحصر ہے کہ وہ داخلی سیاست کے بارے میں اپنے فیصلے خود کرے۔

کربی نے اتوار کو فاکس نیوز کو بتایا، "ہم اسرائیلی عوام کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ صدر کا خیال ہے کہ یہ اسرائیلی عوام اور اسرائیلی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس بات کا تعین کریں کہ نئے انتخابات کب اور ہوں گے۔"

شومر نے اپنی تقریر پر نیتن یاہو کے ردِعمل پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

شومر نے گذشتہ ہفتے فلسطینیوں پر بھی تنقید کی جو مزاحمت کار گروپ حماس کی حمایت کرتے ہیں اور کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو بھی ایک طرف ہٹ جانا چاہیے۔

شومر نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اگر اسرائیل اپنا راستہ تبدیل نہیں کرتا تو واشنگٹن فائدہ اٹھا لے گا۔ پھر بھی وہ ایک ایسا اقدام تجویز کرنے تک نہیں گئے جس کی کچھ ڈیموکریٹس حمایت کرتے ہیں: اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے یہ شرط عائد کرنا کہ غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے قانون سازی متعارف کروائی جائے۔

غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے نے اس کی تقریباً 2.3 ملین آبادی کو بے گھر کر دیا، غذائی قلت کا بحران پیدا کیا اور زیادہ تر انکلیو کو مسمار کر دیا ہے جس میں حماس کے صحت کے حکام کے مطابق 31,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ عالمی عدالت میں نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کا باعث بنا ہے۔

اسرائیل نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتا اور کہتا ہے کہ وہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے جس میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں