حماس کا نئی حکومت کی تشکیل پر بیان ماسکو معاہدے سے بغاوت ہے: فتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تحریک فتح میں انقلابی کونسل کے ایک رکن عزام الاحمد نے نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے فلسطینی صدر محمود عباس پر حماس کے الزام کو ماسکو میں طے پانے والے اتفاق رائے سے علیحدگی اور تقسیم قرار دیا ہے۔

عزام الاحمد نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ماسکو میں گزشتہ ملاقات کے دوران فتح اور حماس کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے عمومی خطوط پر زور دیا گیا تھا۔ روس نے دونوں فلسطینی تحریکوں کو دعوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ان کے درمیان دو طرفہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جاسکیں۔ غزہ میں جنگ بندی یا غزہ میں لوگوں کو امداد کی فراہمی یا تقسیم کے خاتمے اور اسرائیلی قبضہ ختم کرانے کے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی طرف بڑھنے پر مذاکرات ہونا تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کا بیان ماسکو میں ہونے والے اتفاق رائے سے بغاوت ہے۔ تحریک فتح اپنے اور اپنے لوگوں کے خلاف نہیں ہے، وہ صرف عوام کے اتحاد اور ان نمائندگی کی نمائندگی کے متعلق سوچتی ہے۔

فلسطینی صدر کا حق

عزام الاحمد نے کہا کہ حکومت بنانا صدر عباس کا حق ہے۔ ملک کے بنیادی قانون کے مطابق قانون ساز کونسل کے ذریعہ فیصلہ کیا جاتا ہے جو فلسطینی علاقوں میں نافذ آئین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "املک کے لیے ایک ہی صدر ہے"

فتح رہنما نے کہا کہ فلسطینی صدر نے 2006 میں اس حق کا استعمال کیا جب انہوں نے انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو حکومت سازی کا کام سونپا تھا حالانکہ یہاں پارلیمانی نظام نہیں ہیں۔ لیکن ہندیہ وہ تھے جو اپنے ہی خلاف ہوگئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نئی حکومت غیر دھڑے بندی والی حکومت ہے اور وہ اتحاد نہیں بلکہ ماہرین اور ٹیکنو کریٹس پر مشتمل حکومت ہے۔

عزام الاحمد نے کہا کہ اسلامی جہاد اور پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے درمیان تقسیم کو گہرا کرنے کی ذمہ داری فتح نہیں بلکہ صرف حماس پر عائد ہوتی ہے۔

حماس کے ساتھ ملاقات

فتح کے رہنما نے کہا کہ تحریک فتح تحریک حماس کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔ ہم نے مستقبل قریب میں اپنے اور ان کے درمیان ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ ایسے لوگ موجود ہیں جو فلسطینی کاز کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حماس فلسطینی قومی تانے بانے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ میں ان سے رابطے میں رہوں گا، اور گزشتہ تین دنوں سے میں ان سے رابطے میں ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ جس نے اس مسئلے کو آگے بڑھایا۔ یہ تحریک حماس ہی ہے جو اپنے تمام سابقہ بیانات اور معاہدوں کے باوجود اس تقسیم کو ختم نہیں کرنا چاہتی۔ 17 سال کے تجربے نے ہمیں سکھایا ہے حماس تقسیم کو ختم کرنا نہیں چاہتی۔

لا یعنی اقدام

گزشتہ ہفتے محمد مصطفیٰ کی سربراہی میں نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل کے بعد حماس نے اسلامی جہاد اور پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ قومی اتفاق رائے کے بغیر حکومت کا تقرر ایک بے معنی قدم ہے اور اس سے تقسیم مزید گہری ہوگی۔ دوسری جانب فتح نے حماس کے الزامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کی حماس کے ساتھ طویل عرصہ سے کشیدگی چل رہی ہے۔ 2007 میں حماس نے غزہ سے فلسطینی اتھارٹی کو نکال دیا تھا اور غزہ کی حکومت سنبھال لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں