فلسطین اسرائیل تنازع

"غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس اتوار کو ہوگا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ اتوار کو ملاقات کرنے والی ہے جس میں غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کے لیے دوحہ جانے والے وفد کے "مینڈیٹ" پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

یہ بتائے بغیر کہ وفد کب روانہ ہوگا، ایک بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی کابینہ اور چھوٹی پانچ رکنی جنگی کابینہ اتوار کو ملاقات کرے گی تاکہ "دوحہ روانگی سے قبل مذاکرات کے انچارج وفد کے مینڈیٹ کے بارے میں فیصلہ کرے۔"

سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کا بے مثال حملہ جو اس جنگ کی وجہ بنا، اس کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

مزاحمت کاروں نے اس دن تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور اسرائیل کا خیال ہے کہ تقریباً 130 بدستور غزہ میں باقی ہیں جن میں سے 32 ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے قاہرہ میں حالیہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے کوئی وفد نہیں بھیجا تھا۔

دوحہ میں ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس نے کچھ یرغمالیوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے لڑائی میں چھ ہفتے کے وقفے کی نئی تجویز پیش کی ہے۔

اس سے قبل حماس نے اصرار کیا تھا کہ مزید یرغمالیوں کی رہائی پائیدار جنگ بندی پر منحصر ہوگی۔

جنگی کابینہ کے رکن وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ایک اجلاس منعقد کیا جس میں یرغمالیوں کی واپسی پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں "مذاکراتی ٹیم کے نمائندے" شامل تھے۔

انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزالل سماٹریک نے ہفتے کے روز ایکس پر کہا کہ وہ مزید یرغمالی مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کے مخالف تھے۔

انہوں نے ایکس پر کہا، "حماس کا خیالی مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ جنگی کابینہ اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں معاہدے کے حامی اس سازش میں ناکام ہو چکے ہیں۔"

"یہ تصورات کو درست طور پر سمجھنے اور غلطیوں سے سیکھنے کا وقت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں