اردنی فضائی دفاعی ریڈارنے شام کی سرحد کے قریب مشکوک فضائی سرگرمیوں کا سراغ لگایا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردن کی فوج نے پیر کو کہا کہ اس کے فضائی دفاعی ریڈار سسٹم نے شام کے ساتھ سرحد پر ایک نامعلوم ذریعہ سے ہونے والی مشکوک فضائی نقل و حرکت کا سراغ لگایا ہے جس کے بارے میں ایک علاقائی سکیورٹی ذریعہ نے کہا ہے کہ غالباً یہ میزائل عراق سے ایران نواز ملیشیا نے فائر کیے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جیٹ طیارے جن کے بارے میں خیال ہے کہ اردن کے تھے، انہیں اردن کے شہر اربید اور شام کے ساتھ سرحدی گزرگاہ کے قریبی علاقوں پر منڈلاتے ہوئے سنا گیا۔

فوج نے کہا کہ فضائیہ کے اسکواڈرن نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرواز کی تھی کہ فضائی حدود کو کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا۔ یہ نہیں بتایا کہ حرکت کہاں سے ہوئی۔

فوج کے بیان میں کہا گیا ہے، "فضائیہ نے ریڈار سسٹم کے الرٹ کا جواب دیا جس نے نامعلوم ذریعے سے ہونے والی فضائی نقل و حرکت کی نگرانی کی۔"

گذشتہ جنوری میں اردن میں ایک امریکی چوکی پر ڈرون حملے کے بعد تین امریکی فوجی ہلاک اور 34 کے قریب زخمی ہو گئے تھے جن کا تعلق واشنگٹن کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ مزاحمت کاروں سے تھا۔

اردن نے واشنگٹن سے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی یہ کہہ کر درخواست کی ہے کہ اگر غزہ میں جنگ ایران اور اس کی مسلح علاقائی ملیشیاؤں کو مملکت کی سرحدوں پر کھینچتی ہے تو اسے فائرنگ کے تبادلے میں پھنس جانے کا خدشہ ہے۔

ایک اور علاقائی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ دو میزائل روکے گئے جو عراقی سرحد کی سمت سے ایک ایسے علاقے میں آئے جہاں ایران نواز شیعہ ملیشیا موجود ہیں۔

اردن کے جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں سابق بریگیڈیئر جنرل سعود ال شرافت نے کہا کہ "اس سے قطع نظر کہ ڈرون یا میزائل تھے جنہیں روکا گیا یا فائر کیا گیا یا نہیں، اردن کے فائرنگ کے میں پھنسنے کا خطرہ صرف اسی صورت میں بڑھ سکتا ہے جب جنگ جاری رہے اور پھیلے۔"

شرافت نے مزید کہا کہ "مملکت ایک دھماکہ خیز علاقے میں واقع ہے جو خطے میں ایران کے پراکسیز کے ذریعے فائر کیے گئے ڈرونز اور میزائلوں کے تبادلے کے مرکز میں ہے۔"

اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے، عراق اور شام نے سخت گیر ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں اور خطے میں تعینات امریکی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ حملے دیکھے ہیں۔

حکام کہتے ہیں کہ اردن کی حکومت جس نے جنوری 2021 میں امریکہ کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا، عراق اور شام کے ساتھ اردن کی سرحدوں پر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کی طرف سے اسرائیل پر کئی میزائل داغے گئے ہیں جو بحیرۂ احمر کے شہر ایلات کے علاقے میں گرے جو اردن کی سرحد اور اس کے شہر عقبہ کے قریب واقع ہے۔

کٹر امریکی اتحادی یہ بھی کہتا ہے کہ ایران شام کے ساتھ سرحد پر کئی بلین ڈالر کی منشیات کی جنگ کے ساتھ دباؤ ڈال رہا ہے جس کا الزام وہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر عائد کرتا ہے جو جنوبی شام میں اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

اردن نے شام کے اندر ایرانی حمایت یافتہ منشیات فروشوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے اور کہا ہے کہ ان کی سرحدی دراندازی اس کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

ایران کہتا ہے کہ یہ الزامات ملک کے خلاف مغربی سازشوں کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں