اسرائیلی فوج نے غزہ میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں آپریشن کی تصاویر جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے غزہ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس میں فوجی آپریشن کی تصاویر شائع کی ہیں۔

غزہ شہر میں الشفا میڈیکل کمپلیکس کے آس پاس اور مضافات میں پیر کی صبح سے شروع ہونے والی بمباری اور فائرنگ کی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اس سے قبل عینی شاہدین اور فلسطینی ذرائع نےاسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا تھا کہ فوج غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال میں آپریشن کر رہی ہے۔

غزہ میں حماس کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس ہسپتال میں آپریشن کیا ہے۔ اسرائیل اس سے قبل حماس پر طبی سہولیات کو اپنی کارروائیوں کے لیے کور کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے تاہم حماس اسرائیلی الزامات کو یکسر مسترد کرتی آئی ہے۔

سرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ شمالی غزہ کی پٹی میں ہسپتال کے علاقے میں آپریشن کر رہی ہے، جبکہ جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ انہوں نے بمباری کی آوازیں سنی ہیں۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ فوج "اس وقت الشفاء ہسپتال کے علاقے میں ایک ٹارگٹڈ آپریشن کر رہے ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آپریشن ان معلومات کے سامنے آنے کے بعد کیا جا رہا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ الشفاء ہسپتال کا کنٹرول حماس کے ہاتھ میں ہے۔

فوج نے کہا کہ آپریشن کے دوران جو شن بیت کے تعاون سے کیا گیا فورسز کو "الشفا میڈیکل کمپلیکس کے اندر سے دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ فورسز نے جوابی فائرنگ کی اور دہشت گردوں کو زخمی کر دیا"۔

حماس کی وزارت صحت نے "الشفا میڈیکل کمپلیکس کے گیٹ پر آگ لگنے اور ہسپتال میں بے گھر ہونے والی خواتین اور بچوں میں دم گھٹنے کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی فائرنگ سے ہسپتال میں متعدد خواتین اور بچوں کی اموات کا بھی پتا چلا ہے۔ حماس نے ہسپتال کے خلاف کی گئی اسرائیلی کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں