اسرائیل دانستہ غزہ کی امداد روک رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

انسدادِ غربت کے خیراتی ادارے آکسفیم نے پیر کے روز اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ کے دوران غزہ میں امداد کی ترسیل کو دانستہ روک رہا ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر "منظم اور دانستہ طور پر کسی بھی بامعنی بین الاقوامی انسانی ردِعمل کو روکنے اور کمزور کرنے" کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس نے الزام لگایا کہ اسرائیل جنوری میں غزہ میں امداد بڑھانے کے لیے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے حکم کی خلاف ورزی کر رہا تھا اور اپنے زیرِ قبضہ زمین میں لوگوں کے تحفظ کی اپنی قانونی ذمہ داری میں ناکام ہو رہا تھا۔

آکسفیم کی شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کی ڈائریکٹر سیلی ابی خلیل نے کہا، "آئی سی جے کے حکم سے اسرائیلی رہنماؤں کو صدمہ پہنچنا اور انہیں اپنا موجودہ راستہ بدلنا چاہیے تھا لیکن اس کے بعد سے غزہ کے حالات درحقیقت خراب ہو گئے ہیں۔"

"اسرائیلی حکام نہ صرف بین الاقوامی امداد کی کوششوں کو آسان بنانے میں ناکام ہو رہے ہیں بلکہ وہ تو اس میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں سرگرم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل نسل کشی کو روکنے کے لیے اپنی طاقت کے اندر تمام اقدامات کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔"

آکسفیم نے کہا کہ معائنہ کے "بلا جواز طور پر ناکارہ" قواعد غزہ جانے کی کوشش کرنے والے امدادی ٹرکوں کے اوسطاً 20 دن تک قطاروں میں پھنسے رہنے کا سبب بن رہے تھے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام من مانی کرتے ہوئے "دوہرے استعمال" کی اشیاء کو مسترد کر دیتے ہیں -- شہری سامان جو ممکنہ طور پر فوجی استعمال میں بھی آ سکتا ہے جیسے کہ بیک اپ جنریٹر اور ٹارچ۔

آکسفیم نے کہا، "مسترد شدہ اشیاء کی فہرست بہت زیادہ اور ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔"

اس نے یاد دلایا کہ آکسفیم کی کھیپ میں واٹر بیگز اور واٹر ٹیسٹنگ کٹس بغیر وجہ بتائے مسترد کر دی گئیں جن کو بعد میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

گروپ نے "امدادی کارکنوں، انسانی سہولیات اور امدادی قافلوں پر حملوں" اور امدادی عملے کے لیے خاص طور پر شمالی غزہ تک "رسائی کی پابندیوں" کی بھی مذمت کی۔

آکسفیم نے نوٹ کیا کہ فروری میں 2,874 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے جو سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے شروع ہونے والے مشرق وسطیٰ کے مہلک ترین تنازعے سے پہلے کی "روزانہ اوسط کے 20 فیصد" کی نمائندگی کرتے تھے۔

اسرائیل نے اپنی پالیسیوں کا دفاع کیا ہے کیونکہ وہ حماس کو تباہ کرنے کے اپنے بیان کردہ ہدف پر عمل پیرا ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو غزہ کے لیے مزید امداد بھیجنی چاہیے۔ اس نے اقوامِ متحدہ اور این جی اوز کی ان رپورٹوں سے اختلاف کیا ہے کہ اسرائیل کے بوجھل معائنے خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کو روک رہے ہیں۔

'تباہ کن سے آگے'

7 اکتوبر کو حماس کے بے مثال حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,160 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

آکسفیم کے مطابق تقریباً 1.7 ملین فلسطینی یعنی غزہ کی آبادی کا 75 فیصد قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔

آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں کہا، "ہم نے غزہ میں جو حالات دیکھے ہیں وہ تباہ کن ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں