فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال 'الشفا' پر اسرائیلی فوج کا ایک بڑا حملہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال پر پیر کے روز ایک بڑا حملہ شروع کیا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق پہلے ہسپتال پر بمباری کی گئی ہے۔ اس کے ارد گرد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

رمضان المبارک کے شروع ہونے کے بعد جاری جنگ میں کسی ہسپتال پر پہلا بڑا حملہ ہے۔ ہسپتال کے چاروں طرف کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور اسرائیلی فوج نے زمینی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اسے ایک سیدھا اور محدود آپریشن کہا ہے۔

فوج کے جاری بیان کے مطابق یہ انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر شروع کیا گیا آپریشن ہے۔ فوج کے انٹیلی جنس ونگ کی اطلاع کے مطابق فوج کا دعوی ہے کہ ہسپتال کو حماس کے سینئیر دہشت گرد ہسپتال میں موجود ہیں۔

عینی شاہدوں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کے مطابق ہسپتال کے چار طرف اسرائیلی فوج کے ٹینک پہنچ گئے ہیں اور ہسپتال ٹینکوں کے محاصرے میں ہے۔

واضح رہے ماہ نومبر میں بھی اسرائیلی جنگ نے ' الشفا' ہسپتال کو اسی طرح گھیرے میں لے کر اس پر حملہ کیا تھا۔ ہسپتال پر حملے کے خلاف پوری انسانیت نے شور کیا تھا۔ کہ یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔

جبکہ اسرائیل کی فوج مسلسل یہ الزام لگاتی ہے کہ غزہ کے ہسپتال حماس کے استعمال میں ہیں۔ تاہم تمام حملوں کے باوجود کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں لائی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے اداروں کے دفاتر پر بھی یہی الزام لگا کر حملے کیے ہیں کہ وہ حماس کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران اب تک 155 طبی سہولت کے مراکز اور ہسپتالوں پر حملے کر کے انہیں نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اب تک غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں 31645 ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہو چکی ہے۔ لیکن ان زخمیوں کے لئے کوئی مناسب ہسپتال نہیں رہنے دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں