فلسطین اسرائیل تنازع

بوریل کا اسرائیل پرغزہ میں قحط پھیلانےاور بھوک کوبطورہتھیار استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں قحط پیدا کر رہا ہے اور بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

بوریل نے برسلز میں غزہ کے لیے انسانی امداد کے بارے میں ایک کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ "غزہ میں ہم اب قحط کے دہانے پر نہیں ہیں بلکہ ہم قحط کی حالت میں ہیں جس میں ہزاروں لوگ قحط میں مبتلا ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ناقابل قبول ہے۔ قحط کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اسرائیلی جنگ قحط کا باعث بن رہی ہے"۔

قبل ازیں اتوار کو یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ غزہ کو قحط کا سامنا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔انہوں نے فوری جنگ بندی کے معاہدے پر زور دیا۔

قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ کو قحط کا سامنا ہے اور ہم اسے قبول نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہاکہ "اب فوری جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی ممکن ہو اور مزید انسانی امداد غزہ تک پہنچ سکے"۔

غزہ کی وزارت صحت نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ میں 31,726 سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور 73,792 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 81 فلسطینی شہید اور 116 دیگر زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں