فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں 13000 سے زائد بچے ہلاک، ہزاروں فاقوں کا شکار: یونیسیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ کی بچوں کی ایجنسی یونیسیف نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیل کی جارحیت میں غزہ میں 13,000 سے زیادہ بچے ہلاک ہو گئے ہیں اور مزید کہا کہ بہت سے بچے شدید غذائی قلت کا شکار تھے اور ان میں "رونے کی بھی طاقت نہ تھی۔"

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اتوار کو سی بی ایس نیوز کے "فیس دی نیشن" پروگرام کو بتایا، "ہزاروں مزید بچے زخمی ہوئے ہیں یا ہم یہ بھی تعین نہیں کر سکتے کہ وہ کہاں ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ ملبے کے نیچے پھنسے ہوں... ہم نے دنیا میں تقریباً کسی دوسرے تنازعہ میں بچوں کی اموات کی اتنی زیادہ شرح نہیں دیکھی۔"

"میں ان بچوں کے وارڈز میں گئی ہوں جو خون کی شدید کمی کا شکار ہیں، پورا وارڈ بالکل خاموش ہے۔ کیونکہ بچے، ننھے بچے... رونے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔"

رسل نے کہا کہ امداد کے لیے ٹرکوں کو غزہ میں منتقل کرنے کے لیے "بہت بڑے افسر شاہی چیلنجز" درپیش تھے۔

جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد، غزہ میں غذائی قلت کے بحران اور انکلیو میں امداد کی ترسیل روکنے کے الزامات کی وجہ سے اسرائیل پر بین الاقوامی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ماہر نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ایک وسیع تر "بھوک کی مہم" کے حصے کے طور پر اسرائیل غزہ کے غذائی نظام کو تباہ کر رہا تھا۔ اسرائیل نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حماس کے زیر انتظام غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے اور کارروائی سے وسیع پیمانے پر جو تباہی آئی اور غذائی قلت کا بحران پیدا ہوا ہے، اس کی وجہ سے نسل کشی کے الزامات بھی عالمی عدالت میں زیرِ تفتیش ہیں۔

اسرائیل نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے۔

فلسطینی انکلیو میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی مرکزی ایجنسی نے ہفتے کے روز کہا کہ شمالی غزہ میں 2 سال سے کم عمر کا ہر تین میں سے ایک بچہ اب شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور قحط منڈلا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں