فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں چھ ہفتے کی جنگ بندی اور 40 قیدیوں کی رہائی کے لیے قطر میں مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک اسرائیلی اہلکار نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیلی موساد انٹیلی جنس سروس کے چیف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد آج پیر کو قطر بھیجے گا تاکہ حماس کے ساتھ ثالثی کے ذریعے بات چیت کی جائے۔ اس بات چیت کا مقصد غزہ میں چھ ہفتے کی جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے جس کے تحت حماس 40 قیدیوں کو رہا کرے گی۔

اہلکار نے کہا کہ مذاکرات کے اس مرحلے میں کم از کم دو ہفتے لگ سکتے ہیں، جس سے حماس کے مذاکرات کاروں کو پانچ ماہ سے زائد جنگ کے بعد محصور پٹی کے اندر تحریک کے ساتھ بات چیت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مذاکرات سے واقف ایک ذریعہ نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ موساد کے سربراہ کی قطری وزیر اعظم اور مصری حکام کی آج سوموار کو دوحہ میں ملاقات متوقع ہے، جس میں ممکنہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ہوگی۔

غزہ میں بھیجی گئی امداد
غزہ میں بھیجی گئی امداد

ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا، قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور مصری حکام کے درمیان ملاقات آج (پیر کو) متوقع ہے۔ "

قطری دارالحکومت میں ہونے والے یہ مذاکرات ہفتوں کے طویل مذاکرات کے بعد پہلی بارہورہے ہیں جس میں قطری، امریکی اور مصری ثالثوں نے شرکت کی ہے۔ گذشتہ ہفتے شروع ہونے والے مذاکرات رمضان کے مہینے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے میں ناکام رہے تھے۔

خیال رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی تازہ کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب غزہ پرمسلط کی گئی اسرائیلی جنگ میں اب تک 31,726 فلسطینی جاں بحق اور 73,792 زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں