فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کے تیسرے اہم کمانڈر مروان عیسیٰ ہلاک، حملے میں20 ٹن وزنی بم استعمال

مروان عیسیٰ کو نصیرات میں زیرزمین ایک سرنگ کمپلیکس میں نشانہ بنایا گیا۔ یرغمالیوں کی موجودگی کے شبے کی وجہ سے آپریشن بار بار ملتوی کیا گیا۔ مروان کے بارے میں اسرائیلی فوج کو حماس کے اندر سے معلومات مل رہی تھیں:رپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی میڈیا رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں حماس کی قیادت کے تیسرے اہم ترین لیڈر مروان عیسیٰ ایک فضائی حملے میں مار دیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مروان عیسیٰ کو وسطی غزہ کے النصیرات کیمپ میں ایک خفیہ مقام پر نشانہ بنایا گیا جہاں اسے مارنے کے لیے بیس ٹن وزنی بم گرائے گئے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اطلاع دی ہے کہ حملے کو متعدد بار ملتوی کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مروان کے قریب کوئی یرغمالی نہیں ہے۔ جبکہ فضائیہ نے تقریباً 20 ٹن بموں کا استعمال کیا، جس میں بنکر بسٹربم بھی شامل تھے۔

اگرچہ حماس کی جانب سے عزالدین القسام بریگیڈز کے ڈپٹی کمانڈر کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اسرائیل نے محض اشارہ کیا اور گیند حماس کے کورٹ میں پھینک دی ہے تاکہ مروان عیسیٰ کی ہلاکت کی تصدیق خود حماس کی طرف سے کرائے جا سکے۔

وسطی غزہ میں نصیرات میں مروان عیسیٰ اور دیگر کارکنوں پر گذشتہ ہفتے کے فضائی حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی چیف آف اسٹاف ہرزی ہلیوی نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے "حماس کے سینیر رہ نماؤں پر حملہ کیا۔ حماس ان کی ہلاکتوں کو چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے کئی دنوں کی پیچیدہ منصوبہ بندی، آپریشنل حالات پیدا کرنے اور کافی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے بعد اس آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ اسرائیلی فوج کے لیے ایک بہت اہم کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن "ایک قابلیت کی نشانی ہے جسے ہم نے شن بیٹ کے تعاون سے برسوں کے دوران بنایا۔ یہ فضائیہ کی جانب سے اعلیٰ معیار کی ذہانت اور درستگی کا ثبوت ہے جس کی مدد سے ہم زیر زمین حماس کے اعلیٰ حکام کو ختم کرنے کے قابل ہوئے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ حملہ اسرائیلی فوج کی انتہائی پیچیدہ جگہوں تک بروقت اور انتہائی درستگی کے ساتھ پہنچنے کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ ہم سینیر اہلکاروں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ جنگ میں ہمارا یہ بہت بڑا ہدف ہے‘‘۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی حملے جس میں مروان عیسیٰ مارا گیا نے ایک ہفتہ قبل وسطی غزہ میں نصیرات مہاجرین کیمپ کے نیچے ایک سرنگ کمپلیکس کو نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے رہ نماؤں کے درمیان مواصلاتی نظام جو کہ انکرپٹڈ ایپلی کیشنز اور میسنجرز پر انحصار کرتے ہیں عیسیٰ پر حملے کے بعد 72 گھنٹے سے زائد عرصے تک بند رہے۔ یہ نظام اس وقت معطل ہوتا ہے جب حماس کے سینیر رہ نماؤں کو قتل کیا جاتا ہے۔

دی گارڈین نے ماہرین سے مدد طلب کی جنہوں نے کہا کہ اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو مربوط کرنے والی ایک اہم شخصیت عیسیٰ کو نشانہ بنانے والا حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل کو تنظیم کے اندر ایک اہم ذریعہ سے انٹیلی جنس معلومات موصول ہو رہی ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک سابق اہلکار اور علاقائی تجزیہ کار ایوی میلمڈ نے گارڈین کو بتایا کہ آپریشن کو انجام دینے میں اسرائیل کی کامیابی کے لیے عیسیٰ کے صحیح مقام اور وہاں اس کی موجودگی کے وقت کے بارے میں پیشگی معلومات درکار ہوں گی۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے آپریشن کی منظوری اور فوج کی جانب سے اس کے نفاذ میں بھی کافی وقت لگا ہے۔ تاہم یہ سب حماس کے اندر سے ملنے والی معلومات کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

عیسیٰ کو القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد ضیف اور غزہ میں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار کے ساتھ اسرائیل کی انتہائی مطلوب فہرست میں تیسرا آدمی سمجھا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں