فلسطین اسرائیل تنازع

امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی جنوبی افریقہ کی درخواست غیراخلاقی ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے جنوبی افریقہ کی طرف سے اس درخواست کی بنیاد پر بین الاقوامی عدالت انصاف سے کیے گئے اس رجوع کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے کہ عدالت انصاف اسرائیل کو غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان بڑھانے کے لیے ہدایت جاری کرے۔

اسرائیل نے اس پس منظر میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسے اس امر کا پابند نہ بنایا جائے کہ وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد بڑھائے اور امداد کی راہ میں پیدا کردہ رکاوٹیں دور کرے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ بات اسی روز سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ایجنسی' اونروا 'چیف کے غزہ میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

جنوبی افریقہ کی 6 مارچ کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کردہ درخواست پیر کے روز منظر عام پر آئی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اسے غزہ میں انسانی صورتحال پر خود بھی بڑی تشویش ہے کہ وہاں ان معصوم انسانوں کی زندگیاں مشکل میں ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل کے بہت سارے اقدامات سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسرائیل انسانی بنیادوں کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اسرائیل کے وکلاء نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر جان بوجھ کر انسانی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔

واضح رہے 'اونروا' سربراہ فلپ لازارینی کہتے ہیں کہ 'اسرائیل نے 'اونروا' کے 150 امدادی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ بیسیوں 'اونروا' کارکن اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہو چکے ہیں۔' جبکہ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ غزہ میں بھوک اور قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹوں کو دیکھا جاتا ہے۔ تاہم کوئی ملک بھی اسرائیل کو راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرے۔

اسرائیلی وکلاء کا بین الاقوامی عدالت انصاف سے کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی طرف سے عدالت میں دائر کردہ درخواست عدالت اور بین الاقوامی قوانین کا غلط استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ جنوبی افریقہ نے 6 مارچ کو دائر کردہ درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ عدالت اسرائیل کو ایسے نئے اقدامات کا حکم دے تاکہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں دور ہوسکیں اور خوراک کی ترسیل بڑھ سکے۔

اس سے قبل ماہ جنوری میں جنوبی افریقہ ہی کی ایک درخواست پر بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کو حکم دے چکی ہے کہ وہ اپنی حد میں رہتے ہوئے اپنی فوج کو ہدایت دے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے اقدامات کو روکے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے ایک رپورٹ بھی پیش کرے۔

اسرائیل اس امر سے انکاری ہے کہ وہ فلسطین کی سول آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کا واحد مقصد حماس کا خاتمہ ہے۔ لیکن بین الاقوامی ریلیف اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں ہیں۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے ہنگامی اقدامات کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے فوری اقدامات کے تحت ایک طرح سے ان امور میں حکم امتناعی جاری کر دے جن کی وجہ سے صورتحال مزید پچیدہ اور بگاڑ سے بچ جائے۔ عام طور پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی اس طرح کے معاملات میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں