فلسطین اسرائیل تنازع

بلنکن کا مشرق وسطی کا چھٹا دورہ ، غزہ میں جنگ بندی اور حوثی اہم موضوعات میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے چھٹے ماہ کے درمیان بدھ کے روز چھٹے دورے پر سعودی عب اور مصر پہنچ رہے ہیں۔وہ مسلسل دورے کر کے غزہ کی جنگ کو غزہ کے اندر تک محدود رکھنے کے لئے کوشاں رہنے کے بعد اب کئی ماہ سے جنگ میں وقفے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔

ان چھ ماہ سے کم کے عرصے اب تک 31726 فلسطینی قتل کیے گئے ہیں۔
اپنے چھٹے دورے کے پہلے مرحلے پر وہ بدھ کے روز سعودی عرب میں مملکت کے اعلی عہدے داروں سے اہم ملاقاتیں کریں گے جبکہ اگلے روز جمعرات کو مصر جائیں گے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بتایا ہے وزیر خارجہ اس وقت فلپائن کے دورے پر ہیں جہاں سے مشرق وسطی پہنچیں گے۔

بتایا گیا ہے وزیر خارجہ بلنکن اسرائیلی جنگ کے چھٹے ماہ بھی فوری جنگ بندی کے موضوع پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اسرائیل اور حماس یرغمالیوں کی فوری رہائی پر متفق ہو جائیں۔ حماس نے ایک سو چالیس یرغمالیوں کو ماہ نومبر میں رہا کیا تھا جب کئی چھوٹے وقفوں پر مشتمل ایک ہفتے کے لئے فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم یکم دسمبر سے جنگی وقفے ختم غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری جاری ہے اور اس دوران اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کو اسلحے کی سپلائی اور بین الاقوامی سطح پر حمایت میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔

حتی کہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرار دار کو بھی ویٹو کیا۔
انٹونی بلنکن کے مذاکرات میں یہ بھی ترجیح ہوگی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد حماس کا کردار غزہ میں باقی نہ رہے اور انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے۔

بلنکن جنگ کے بعد کے منظر نامے پر فوکس ہوگا۔ تاکہ بعد از جنگ پائیدار امن قائم ہو جائے اور پھر کوئی خطرہ باقی نہ ہو۔ امریکی وزیر خارجہ کے لئے حوثیوں کے مسلسل جاری حملے بھی تبادلہ خیال کے لئے اہم موضوع ہوگا۔ تاکہ بحیرہ احمر میں جہازوں کی آمدورفت محفوظ ہوجائے۔ بلنکن کا فلپائن کا دورہ چین کے بارے میں امریکی اتحادیوں کو منظم کرے اور ایشیا میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں