فلسطینی تنظیم کا اسرائیل پر قیدیوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ زیر التوا ہے اور کئی رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں اور حالیہ ایام اسرائیلی جیلوں میں کئی فلسطینی پراسرار طور پر ہلاک ہوئے ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کے حقوق پر نظر رکھنے والے فلسطینی ادارے ’کلب برائے امور اسیران‘ کے سربراہ عبداللہ زغاری نے خبردار کیا ہے کہ آنے والا وقت اسرائیل کی طرف سے کسی بھی طرح کی نگرانی یا جوابدہی کی عدم موجودگی میں فلسطینی قیدیوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک، وحشیانہ تشدد اور مجرمانہ طبی غفلت کی طرف دلاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جیلیں ایک پوشیدہ میدان جنگ میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

عرب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ "قیدیوں کو اب بھی روزانہ کی بنیاد پر وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہلاک کیا جا رہا ہے۔ وکلاء کے ذریعے کیے گئے زیادہ تر دورے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مجدو اور نیگیو جیلوں میں حالات مشکل اور خطرناک ہیں۔

برغوثی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جہاں تک قیدی مروان برغوثی پر حملے کا تعلق ہے زغاری نے تصدیق کی وہ ان قیدیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اپنی 22 سالہ حراست کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے زیادہ تر وہ قید تنہائی میں رہے، جو اس کی زندگی کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے"۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ 7 اکتوبر سے برغوثی تحریک فتح کے قید رہنماؤں کے ایک گروپ کے ساتھ براہ راست اور مسلسل ٹارگٹ اور وحشیانہ حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہیں تین ماہ قبل عوفر جیل سے منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان پر حملہ کیا گیا تھا۔ انہیں ایک سے زیادہ بار ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ وہ اس وقت مجدو جیل کے آئسولیشن سیکشن میں ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک فتح کے دس دوسرے قیدی بھی تنہائی میں ڈالے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "جیلوں میں اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی ہدایات پر عمل درآمد ہے، جس کا مقصد قیدیوں پر عرصہ حیات تنگ کرن اور ان کے حقوق کو مجروح کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلب کو "غزہ کی پٹی کے قیدیوں کے اہل خانہ کی طرف سے روزانہ کالز موصول ہوتی ہیں جو اپنے اہل خانہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج کے کیمپوں میں نظرقید ہیں اور غیر انسانی حالات میں روزانہ حملوں کا نشانہ بنتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں