7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے حماس کے کون کون سے سرکردہ رہ نما قتل کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

حماس کے رہ نما فائق المبحوح کی ہلاکت نے گذشتہ اکتوبرمیں جنگ کے آغاز کے بعد سے تحریک کے سرکردہ رہ نماؤں کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے سابقہ قتل کے واقعات کو تازہ کردیا ہے۔

اسرائیلی قتل عام نے تحریک اور اس کے عسکری بازو "القسام بریگیڈز" کے متعدد رہ نماؤں کو نشانہ بنایا، جن میں سے تازہ ترین حماس کی داخلی سلامتی سروس کے آپریشنز کے سربراہ فائق المبحوح کا قتل ہے جسے غزہ شہر کے مغرب میں الشفا ہسپتال کے قریب نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق سات اکتوبر کے بعد اسرائیل نے حماس کے تقریبا ایک درجن سرکردہ رہ نماؤں کو ہلاک کیا ہے جن میں ایک خاتون رہ نما بھی شامل ہیں۔

المبحوح حماس کی وزارت داخلہ میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، جب کہ ان کا نام اس کے مسلح ونگ کی عسکری سرگرمیوں سے منسلک نہیں تھا لیکن وہ اس حماس کی شہری سرگرمیوں کو منظم کرنے میں سب سے زیادہ بااثر افراد میں سے ایک تھے۔

اس سے قبل وہ 2020ء میں غزہ کی پٹی میں کرونا وائرس پھیلنے کی لہر کے دوران وزارت داخلہ میں کرائسز منیجمنٹ سیل کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔ اس کے بعد انہیں پولیس کی انٹرنل سکیورٹی سروس کے آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

مروان عیسیٰ

غزہ میں ہلاک ہونے والے حماس کے دوسرے سرکردہ رہ نما مروان عیسیٰ ہیں۔ مروان عیسیٰ کی ہلاکت کی تصدیق نہ توحماس نے کی نہ اسرائیل نے بلکہ اس قتل کا دعویٰ امریکہ کی طرف سے آیا ہے۔

عیسیٰ نے غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر کام کیا اور 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کی تھی۔

وہ اس سے قبل متعدد قتل کی کوششوں میں بچ گیا تھا لیکن وہ جسمانی معذوری کا شکار تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسے ایک بہت پراسرار شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

ایمن نوفل

القسام بریگیڈز کی ملٹری کونسل کے رکن اور غزہ کی پٹی میں سینٹرل ریجن بریگیڈ کے کمانڈرایمن نوفل کو اسرائیل نے 17 اکتوبر کو قتل کر دیا تھا۔

اس نے حماس کے میزائل سسٹم کو تیار کرنے میں کردار ادا کیا اور وہ اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو پکڑنے کے آپریشن کے منصوبہ سازوں میں سے ایک تھا۔

وہ القسام میں دوسرے شخص مروان عیسیٰ کے بھی قریب ہے۔

صالح العاروری

اس کے متوازی طور پر اسرائیل نے 2 جنوری کو بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت میں ایک دفتر کو نشانہ بنایا جس میں حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کو قتل کردیا گیا۔

العاروری 18 سال تک اسرائیلی جیلوں میں نظر بند رہے۔ انہیں 2011ء میں گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے طے پائے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔

العاروری کو مغربی کنارے میں القسام بریگیڈز کو مسلح کرنے کے گاڈ فادر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہیں ملک بدر کردیا گیا جس کے بعد وہ لبنان میں آباد ہوگئے۔

سمیر فندی

سمیر فندی جنوبی لبنان میں حماس کی کارروائیوں کے ذمہ دار تھے۔اسرائیل نے 2 جنوری کو بیروت کے جنوبی مضافات میں صالح العاروری کے ساتھ انہیں بھی ہلاک کردیا تھا۔

عزام الاقراع

حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کے بانیوں میں شامل اور لبنان میں مرج الزہور کے جلاوطن افراد کا حصہ رہنےوالے عزام الاقرع کو گذشتہ 2 جنوری کو صالح العاروری کے ساتھ بیروت میں قتل کر دیا گیا تھا۔

احمد بحر

فلسطینی قانون ساز کونسل کے قائم مقام سربراہ احمد بحر 17 نومبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری میں جان سے چلے گئے تھے۔

وہ اس تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن اور قانون ساز کونسل میں اس کے نمائندہ تھے، جن میں سے اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں کونسل کے سربراہ عزیز دویک کو گرفتار کرنے کے بعد وہ اس کے قائم مقام اسپیکر منتخب ہوئے۔

جمیلہ الشنطی

18 نومبر کو حماس کی رکن قانون ساز کونسل اور جماعت کی سیاسی بیورو کی رکن جمیلہ الشنطی کو قتل کر دیا گیا، وہ تحریک کے سیاسی بیورو کی رکنیت حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔

ایمن صیام

صیام القسام بریگیڈز میں میزائل سسٹم کا کمانڈر تھا اور اسرائیل نے اسے 26 نومبر کو قتل کر دیا۔

اسامہ المزینی

اسامہ المزینی حماس تحریک کے ایک نمایاں رہنما تھے۔ وہ 21 اکتوبر کو غزہ پر بمباری میں مارے گئے تھے۔اپنی موت تک وہ تحریک کی شوریٰ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔

وہ حماس کے بانی مرحوم الشیخ احمد یاسین کے داماد تھے اور سال 2006-2011 کے درمیان سپاہی گیلاد شالیت کی اسیری کے دوران ان کا نام غزہ میں نمایاں ہوا۔

احمد الغندور

عزالدین القسام بریگیڈز کی ملٹری کونسل کے رکن اور غزہ کی پٹی میں شمالی بریگیڈ کے کمانڈر احمد الغندور کو 6 سال تک اسرائیلی جیلوں میں نظر بند رکھا گیا، جس پر ان پر کئی خودکش کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

اس پر اس آپریشن میں حصہ لینے کا الزام ہے جس میں 2006 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو پکڑا گیا تھا۔

2017 میں امریکہ نے ان کا نام "دہشت گردی" کی فہرست میں شامل کیا اور ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے حماس کے رہ نماؤں کو نشانہ بنانے کا اعلان اس وقت سے کیا جب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حماس کے مطلوب لیڈروں کی ایک فہرست تیار کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں عسکری ونگ کے کمانڈر محمد الضیف اور غزہ میں حماس کے لیڈر یحییٰ السنوار شامل ہیں جن پر 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں