فلسطین اسرائیل تنازع

رفح پر زمینی حملہ ضروری ہے۔ نیتن یاہو نے جوبائیڈن کو آگاہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نے واضح طور پر امریکی صدر جوبائیڈن کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے کہ اسرائیل رفح پر زمینی حملے کے سوا کوئی راستہ نہیں دیکھتا کہ حماس کا خاتمہ کر سکے۔ رفح اس وقت اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 15 لاکھ فلسطینی شہریوں کی پناہ گاہ کے طور پر غزہ کی سب سے گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سارے پناہ گزین اسرائیلی بمباری کے دوران اسرائیلی فوج کے کہنے پر رفح منتقل ہوتے رہے ہیں۔ اب غزہ میں رفح کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے کہ ان بے گھر ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کے لیے جائے پناہ ثابت ہو سکے۔

تاہم نیتن یاہو نے اپنے سب سے بڑے اتحادی اور سرپرست ملک کے صدر کو بتا دیا ہے کہ اسرائیل ہر صورت رفح پر اپنا طے شدہ زمینی حملہ کرے گا۔ تاکہ حماس کی بٹالینز کا خاتمہ کر سکے۔

امریکی صدر نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران پانچ ماہ سے کامل یکسو غزہ جنگ کے بارے میں پالیسی میں قدرے فرق طاہر کرنا شروع کیا ہے۔ اس میں امریکی رائے عامہ سے زیادہ جوبائیڈن کو اپنی جماعت کے اندر سے بھی مطالبات کا سامنا ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا میں بھی عوامی سطح پر غزہ میں دوتہائی عورتوں اور بچوں کی ہلاکت کے خلاف کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔

اس لیے جوبائیڈن نے رفح کے بارے میں یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ اسرائیل نئے حملے سے پہلے شہریوں کے تحفظ کے لیے بھی منصوبہ بنائے۔ تاہم انہوں نے اسے اپنے لیے ' سرخ لکیر قرار دینے کے باوجود ایسا کوئی تاثر نہیں دیا ہے کہ رفح پر حملے کے مضمرات امریکہ کی طرف سے بھی اسرائیل کو بھگتنا پڑیں گے جیساکہ امریکہ کی دنیا میں روایت ہے کہ جو ملک اس کی حکم عدولی کرتا ہے تو اس کے خلاف کم از کم سزا پابندیوں کی صورت ضرور نافذ کر دی جاتی ہے۔ یا امریکی دفتر خارجہ، این جی اورز کی منفی رپورٹس انسانی حقوق کے حوالے سے شور مچانے لگتی ہیں۔

اس صورت حال میں جوبائیڈن کا اسرائیل کو رفح پر حملے سے روکنا محض ایک اخلاقی نصیحت کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی لیے نیتن یاہو نے اپنے قانون سازوں کوآگاہ کیا ہے کہ پیر کے روز جوبائیڈن سے ہونے والی فونک بات چیت کے دوران صاف طور پر بتا دیا گیا ہے ہم حماس کی تمام بٹالینوں کے خاتمے کے اپنے فیصلے پر پکے ہیں۔اس لیے رفح میں زمینی حملے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ رفح پر اسرائیلی زمینی حملہ ایک غلطی ہوگی۔ اس لیے اسرائیل کو اپنے مقاصد کسی اور طریقے سے حاصل کرنے چاہییں۔

دوسری جانب امریکہ نے غزہ میں جنگ کے چھٹے ماہ کے دوران ایک نئی سفارتی کوشش شروع کی ہے۔ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد چھٹی بار خطے کے دورے پر آج سعودی عرب پہنچ رہے ہیں، جبکہ جمعرات کے روز وہ مصر جائیں گے۔ اس کا مقصد اسرائیل کو زمینی حملے سے روکنے کے لیے براہ راست مسلسل جنگ بندی اگے بڑھانے سے زیادہ خطے میں اپنے انسانی بنیادوں سے متعلق ' امیج ' کو بہتر کرنے کی کوشش اور حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو درپیش خطرات پر فوکس کرنا ہے۔

شاید یہ اسی امر کا شارہ ہے کہ امریکہ اب اسرائیل کو رفح پر حملے سے روکنے کے لیے مزید کوشش کے حق میں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ چھٹی بار مشرق وسطیٰ آنے کے باوجود بلنکن کے ابھی تک اسرائیلی حملے رکنے کے کسی پروگرام کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تاکہ اسرائیلی حملہ بھی ہوجائے اور امریکی فاصلہ بھی محسوس ہو سکے۔

وزیر خارجہ کے سعودی عرب پہنچنے سے محض ایک روز قبل اسرائیل نے رفح سمیت غزہ کے مختلف علاقوں پر سحری کے قریبی اوقات میں بمباری کی ہے۔ جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیس فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ جبکہ اس سے بھی زیادہ سنگین واقعہ اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال ' الشفا' پر حملہ کیا ہے۔ یہ ' الشفا' ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا دوسرا بڑا حملہ تھا۔

غزہ میں تازہ بمباری سے پلاکتوں کے بعد ایک فلسطینی سوگوار نے کہا ' سب کچھ کے باوجود امریکہ ، یورپ اور پوری دنیا کئی ملک اسے اسلحے اور اقتصادی امداد و رابطے میں کوئی کمی نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کاروباری اور سفارتی تعلقات میں بھی کوئی کمی نہیں ہے۔' ابراہیم نامی ایک فلسطینی سوگوار نے کہی۔ اس کے مطابق 'یہ لوگ اسرائیل کو میزائل بھی بھیج رہے ہیں ڈرون اور جنگی طیارے بھی اور ہمیں فضا سے خوراک کے چند دانے پھینک کر بے وقوف بنا تے ہوئے اپنے آپ کو اچھے انسانوں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ '

واضح رہے اب تک اسرائیل نے لگ بھگ 32 ہزار فلسطینیوں کو غزہ کی جنگ میں قتل کیا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ فلسطینی زخمی کر دیے ہیں ، 155 کے قریب طبی مراکز اور علاج گاہیں تباہ یا ناکارہ کر دی ہیں۔ غزہ میں عملاً قحط کا سماں ہے۔

بین الاقوامی سطح پر قحط اور بھوک کے حالات کی مانیٹرنگ کے لیے قائم ادارے ' آئی پی سی ' کے مطابق غزہ میں پہلے ہی قحط سے بڑھ کر صورت حال ہو چکی ہے۔ خطرہ ہے کہ جلد لوگ بھوک سے تیزی کے ساتھ مرنے لگیں گے۔ اس سے بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ جنگ بندی کی جائے اور امدادی ترسیل میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں