فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں 2000 ٹن امدادی خوراک پہنچا دی گئی ہے : برطانوی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ غزہ میں بھوک زدہ فلسطینیوں کے لیے 2000 ٹن سے زائد خوراک پہنچ گئی ہے۔ اس میں برطانیہ کی طرف سے بھجوایا گیا 150 ٹن امدادی سامان بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے غزہ میں لاکھوں بے گھر لوگوں کو بھوک اور قحط کے نشانے پر قرار دے رکھا ہے جبکہ یورہی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے غزہ میں امدادی سامانے کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کیے رکھنے کو بھوک اور قحط کو فلسطینیوں کے خلاف جنگی ہتھیار بنالینے کے مترادف قرر دیا ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق یہ امدادی خوراک اردن کے راستے بھجوائی گئی ہے جبکہ غزہ میں اس کی تقسیم عالمی خوراک پروگرام کے تحت کی جائے گی۔

برطانوی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا امدادی اداروں نے وسیع پیمانے پر خوارک کی قلت کی اطلاع دی تھی ، حتیٰ کہ پینے کے صاف پانی اور ادویات کی قلت کا بھی کہا ہے، اسی طرح اقوام متحدہ کے ادارے غزہ میں قحط کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ یہ ادارے خبر دار کرتے ہیں کہ بھوک اور قحط کی وجہ سے بڑی تباہی کا خطرہ ہوگا۔

اس پس منظر میں وزارت خارجہ نے کہا ہمیں غزہ میں پائیدار رسائی کی ضرورت ہے تاکہ زمینی راستے سے زیادہ سے زیادہ امداد غزہ پہنچائی جا سکے۔ اس سلسلے میں ہم اسرائیل پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ راہداریاں کھولے تاکہ امداد کی ترسیل آسان ہو سکے۔ پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے اور سحت کی سہولیات کی غزہ میں دستیابی ممکن بنائی جا سکے۔

غزہ میں موجود ساری بے گھر آبادی کو خوارک کی ترسیل کو برطانوی وزارت خارجہ نے اعداد میں تبدیل کرتے ہو ئے بتایا پونے تین لاکھ سے زائد افراد کو عالمی خوراک پروگرام کھانا دے گا۔ واضح رہے برطانیہ نے بھی غزہ میں لوگوں کو 155 ٹن امدادی سامان بھیجا ہے۔ اس ممیں کمبل اور خیمے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں