غزہ کا دورہ کرنے والے ڈاکٹروں کی 'مظالم' اور صحت کی نگہداشت کی تباہی کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حالیہ مہینوں میں فلسطینی انکلیو کا دورہ کرنے والے مغربی ڈاکٹروں نے پیر کے روز اقوامِ متحدہ میں ایک تقریب میں اسرائیل کی جارحیت سے پیدا شدہ "خوفناک مظالم" کی بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غزہ میں صحت کی نگہداشت کا نظام بنیادی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

ریاست ہائے متحدہ، برطانیہ اور فرانس کے چار ڈاکٹر غزہ میں صحت کی نگہداشت کے نظام کی مدد کے لیے ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جو گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل کی جانب سے وہاں پر فوجی حملہ شروع کرنے کے بعد سے مشکلات کا شکار ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت نے تقریباً 2.3 ملین افراد کو بے گھر کر دیا، فاقہ کشی کا بحران پیدا کیا، زیادہ تر انکلیو کو مسمار کر دیا اور اس کارروائی میں 31,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک سرجن نک مینارڈ جو جنوری میں فلسطینیوں کے لیے برطانوی خیراتی طبی امداد کے ساتھ غزہ میں آخری بار گئے تھے، نے ایک بچی کو دیکھ کر یاد کیا کہ وہ اس بری طرح سے جھلس گیا تھا کہ وہ اس کے چہرے کی ہڈیاں دیکھ سکتے تھے۔

کینسر کے سرجن مینارڈ نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی تقریب کو بتایا، "ہمیں معلوم تھا کہ اس بچی کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن اسے دینے کے لیے کوئی مورفین نہیں تھی۔ تو نہ صرف وہ لامحالہ مرنے والی تھی بلکہ وہ اذیت میں مر رہی تھی۔"

انسانی ہمدردی کے گروپ میڈ گلوبل میں تشویش ناک طبی نگہداشت کے ماہر ظاہر سہلول نے کہا کہ ایک اور سات سالہ بچی حیام ابو خضیر غزہ کے یورپی ہسپتال لائی گئی جس کے جسم کا 40 فیصد حصہ تیسرے درجے کے زخموں سے جھلس گیا تھا جب اس کے گھر پر اسرائیلی فضائی حملہ ہوا۔ اس حملے میں اس کا باپ اور بھائی ہلاک اور اس کی ماں زخمی ہو گئی تھی۔

سہلول نے بتایا کہ ہفتوں کی تاخیر کے بعد اسے علاج کے لیے مصر لے جایا گیا لیکن دو دن بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔

بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا حملہ نسل کشی ہے۔ ان الزامات کی عالمی عدالت تحقیقات کر رہی ہے۔

اسرائیل نے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حماس کو نشانہ بنا رہا ہے نہ کہ شہریوں کو۔ اس نے حماس گروپ پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا اور کہا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ کے جنوبی شہر رفح پر حملے کے منصوبے کو آگے بڑھایا تو بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

مینارڈ نے کہا، "اگر رفح پر ایک بڑا حملہ ہوتا ہے تو ہم جتنی ہلاکتیں دیکھنے جا رہے ہیں، یہ قیامت خیز ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں