قبرص کی بندرگاہ سے بھیجی گئی امداد غزہ کے لوگوں تک پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کی طرف سے قبرصی بندر گاہ کے راستے بھجوائی گئی امداد بھوک زدہ غزہ کے فلسطینیوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔اس کی تصدیق اماراتی امداد کو ہسپانوی جہاز کے ذریے بھجوانے کے مشن میں رابطہ کاری کا کام کرنے والی ' کمپنی ورلڈ سنٹرل کچن' نے کر دی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ قبرص کی بندر گاہ لارناکا سے ایک ہفتہ پہلے روانہ کیا گیا امدادی بحری جہاز غزہ پہنچنے کے بعد امداد شہریوں تک پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے قبرص سے امداد بھجوانے کا عمل غیر معمولی ہے۔ اس کا آغاز اسرائیل کی طرف سے امداد کی ترسیل میں زمین پر رکاوٹوں کے مسلسل قائم رکھے جانے کے بعد غزہ کے لیے اس بحری راستے کا ' انیشیٹو ' لیا گیا۔

اس مشن میں کئی شراکت دار ہیں۔ مالی امداد اور خوراک متحدہ امارات نے فراہم کیا، قبرص نے اپنی بندر گاہ کی سہولیات پیش کیں۔ سپین نے اپنا بحری جہاز اس خدمت کے لیے دے دیا اور امریکی خیراتی کمپنی ان کے وسائل کو غزہ بھجوانے کے لیے تعاون کیا۔

یہ امدادی سامان بحری راستے سے تقریبا 322 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا اور یہ امداد غزہ کے نزدیک جمعہ کے روز پہنچی۔ منگل کے روز آٹھ ٹرکوں کی مدد سے 5 لاکھ کھانوں پر مشتمل یہ امداد غزہ پہنچا دی گئی۔

اقوام متحدہ نے پیر کے روز بھی اعلان کیا ہے کہ غزہ کے شمالی حصے میں قحط سامنے ظاہر ہے۔شمالی غزہ میں 3 لاکھ شہری جنگ زدہ علاقے میں گھرے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ قبرصی بندرگاہ کے راستے مزید 240 ٹن امدادی سامان اور خوراک کی روانگی تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں