اسرائیلی کاروباری قائدین کااقتصادی پریشانیوں کے درمیان فلسطینی کارکنان کی واپسی پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی کاروباری برادری کے ایک رہنما نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی مینیجرز فلسطینی ملازمین کی واپسی کے "عام طور پر حق میں" ہیں جن کے ورک پرمٹ حماس کے بے مثال حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے تھے۔

دو قومی ایوانِ تجارت کی اسرائیلی فیڈریشن کے صدر ڈین کیٹاریوس نے اس سوال پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا جس کے اسرائیل کی معیشت پر سنگین نتائج ہیں جہاں تعمیرات جیسے تمام شعبوں کا انحصار فلسطینی مزدوروں پر ہے۔

تقریباً 120,000 فلسطینی جن کی اکثریت مقبوضہ مغربی کنارے سے ہے، کے پاس غزہ کی جنگ سے پہلے کام کرنے کے لیے اسرائیل میں داخلے کے اجازت نامے تھے -- لیکن وہ منسوخ کر دیے گئے۔

اجازت نامے اسرائیلی وزارتِ دفاع کا ایک ادارہ سی او جی اے ٹی منظور کرتا ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شہری امور کا نگران ادارہ ہے۔

جنگ کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے میں اب صرف 8,000-10,000 فلسطینیوں کو اسرائیل میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

محنت کشوں اور افرادی قوت کی بین الاقوامی تنظیم (آئی ایل او) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتِ حال نے فلسطینی علاقوں میں ایک بے مثال معاشی اور معاشرتی بحران پیدا کیا ہے جس نے آئندہ مہینوں میں بے روزگاری میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

سب سے زیادہ متأثر ہونے والے دو شعبے تعمیرات اور کچھ کم حد تک زراعت ہیں جس میں موسمی کارکن کام کرتے ہیں۔

اسرائیل میں کام کے لیے آنے والے فلسطینی مزدوروں کی اکثریت -- 120,000 میں سے تقریباً 80,000 -- تعمیراتی مقامات پر کام کرتی تھی۔

کیٹاریوس نے کہا، "آج ہم اس شعبے میں سرگرمیوں میں تقریباً 50 فیصد کی کمی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "لیکن جسے ہم 'ضروری' کاروبار کہتے ہیں مثلاً خوراک، دواسازی، صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی نگہداشت، اس میں بھی ایک بڑی کمی ہے۔"

انہوں نے نوٹ کیا کہ جب کاروباری برادری نے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کمپنیوں میں فلسطینی کارکنوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرے تو بہت کم تعداد کو ضروری منظوری ملی۔

ایک اہم مسئلہ اس بارے میں غیر یقینی ہے کہ فلسطینی کارکنوں کا خروج کب تک جاری رہے گا۔

کیٹاریوس نے پوچھا، "یہ قلیل مدتی ہے، طویل مدتی ہے یا غیر معینہ مدت کے لیے؟ کوئی جواب نہیں ہے۔"

اعتماد کا بحران

ہندوستان، سری لنکا اور فلپائن جیسے ممالک کے غیر ملکی کارکنوں سے مزدوری کے خلا کو پُر کرنا ایک ممکنہ طریقہ ہے۔

لیکن انہوں نے کہا غیر ملکی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے نوکر شاہی کا عمل سست ہے اور رہائش اور ملازمت سے متعلق سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔

انہوں نے پوچھا، "کیا اسرائیل میں کسی نے خود سے یہ سوال پوچھا ہے کہ ہم واقعی فلسطینی افرادی قوت کی جگہ 150,000 غیر ملکی کارکن رکھنا چاہتے ہیں، کیا یہ صحیح راستہ ہے؟"

اس کے باوجود کیٹاریوس کی نگاہ میں یہ واضح تھا کہ جنگ نے اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا، "اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان اعتماد کا ایک بڑا بحران ہے۔ اسرائیلی آجروں نے فلسطینیوں کے روزگار کو معطل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کا انتظار نہیں کیا۔"

لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ آخرِ کار یہ حقیقت پسندانہ سوال ہے -- اور اسرائیلی معیشت فلسطینی افرادی وقت سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارے لیے بہترین حل یہ ہے کہ غیر ملکی مزدوروں کو نہ لایا جائے جو مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔ ہمیں سکیورٹی کی ضروریات کو مدِنظر رکھنے کی ضرورت ہے لیکن میرا خیال ہے کہ آجروں کی اکثریت عام طور پر فلسطینی کارکنوں کی واپسی کے حق میں ہے۔"

جنگ اب چھٹے مہینے میں ہے اور عارضی جنگ بندی جس کے ساتھ یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ ہوگا، کی کوششوں کے باوجود کوئی اختتام نظر نہیں آرہا۔

کیٹاریوس نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے آیا کہ جنگ سے ہونے والی تباہی اور مصائب کے بعد مکالمے اور معاشی ذرائع سے بقائے باہمی کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں ان لوگوں میں سے ہوں جو سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کی اکثریت کام کرنا، اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتی ہے اور ہر صبح اسرائیل کو تباہ کرنے کے خیال سے نہیں اٹھتی۔"

"ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور فریقین کے فائدے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ کیسے تلاش کریں گے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں