فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے رفح پر حملہ کرنے کا تہیہ کیوں کر رکھا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور اس کی فوج گنجان آباد ترین آبادی میں تبدیل ہو چکے شہر رفح پر حملہ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ اس پر عالمی سطح پر تشویش کی لہر ہے کہ پندرہ لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے اس رفح پر زمینی فوجی حملہ کیا گیا تو بہت بڑی تباہی ہو جائے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق رفح پر حملہ کیے بغیر اپنے جنگی مقاصد کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی مکمل فتح صرف اسی صورت ممکن ہو گی کہ رفح پر حملہ کیا جائے۔

نیتن یاہو نے اسی ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج کے رفح پر حملے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ جبکہ بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ فون پر بات چیت کرتے ہوئے اس منصوبے کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ نیتن یاہو ایک وفد بھی امریکہ بھیج رہے ہیں۔ تاکہ وفد اپنے رفح کے بارے میں جنگی منصوبے کو براہ راست امریکی حکام کے ساتھ زیر بحث لاسکے۔

رفح اس قدر نازک معاملہ کیوں ؟

جب سے غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو یہ کہتے آئے ہیں کہ جنگ کا اہم ترین ہدف حماس کا خاتمہ کرنا ہے۔ اب رفح میں اسرائیل حماس کی بٹالیننز کا خاتمہ اپنا ہدف بتارہا ہے۔ اسرائیل کے مطابق رفح میں حماس کی چار بٹالیننز ہیں۔ ان میں حماس کے سینئیر جنگجو بھی موجود ہیں۔

رفح پر حملے کی مخالفت کیوں؟

اس کی مخالفت اگرچہ جاری ہے لیکن اس مخالفت کی کئی تہیں ہیں۔ ہر مخالفت کرنے کی اپنی حدود ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیلی فوج زمینی حملے ساتھ ایک منظم منصوبے کے ساتھ کرے۔ جس میں شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کا راستہ بھی ہو۔

مصر جو کہ اسرائیل کا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔ نے اسرائیل کو بتا رکھا ہے کہ 'اگر رفح پر حملہ کرکے فلسطینیوں کو مصر کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی گئی تو یہ اسرائیل کے ساتھ چالیس سالہ تعلقات اور معاہدوں کے لیے خطرناک ہو گا۔'

اسرائیلی فوج جلدی رفح میں داخل نہیں ہو رہی ؟

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا وفد واشنگٹن جائے گا۔ تاکہ جوبائیڈن کو بتائے کہ رفح پر حملہ کیوں ضروری ہے۔ کہ اس حملے کے بغیر اسرائیلی کی فتح ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لیے کوئی صورت نہیں ہو گی کہ اسرائیل رفح پر حملہ نہ کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں