الشفاء ہسپتال پراسرائیلی حملہ کاچوتھا دن مکمل،وزیرخارجہ بلنکن کی قاہرہ میں ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جمعرات کے روز قاہرہ میں عرب رہنماؤں کے ساتھ غزہ کی جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں پر اس وقت تبادلہ خیال میں مصروف رہے جب غزہ کا سب سے بڑا اور آخری بچا کھچا الشفاء ہسپتال اسرائیلی فوج کے آتشی حملے کے چوتھے دن کو مکمل کر رہا تھا۔ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی ریپبلیکن سینیٹرز کو یہ بتا چکے تھے کہ حماس کے خلاف جنگ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

انٹونی بلنکن کا 7 اکتوبر کے بعد مشرق وسطیٰ کا مسلسل چھٹا دورہ ہے۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران سفارتی محاذ پر بےمثال کام کیا ہے اور مسلسل عرب دنیا اور اسرائیلی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔

ان کے ان چھ دوروں کے دوران اولین اہداف میں غزہ کی جنگ کو غزہ کے اندر تک محدود رکھنا، جنگی پھیلاؤ کو روکنا، اسرائیلی یرغمالویں کی رہائی کو فوری ممکن بنانا، لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر کشیدگی کو ایک حد سے آگے نہ جانے دینا، حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے حمائت و تعاون کی کوشش کرنا۔ نیز امدادی سامان کی صحیح ترسیل کرتے ہوئے حماس کے ہاتھ لگنے سے روکنے کی تیاری کرنا تھا۔

امریکہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی سے متعلق تیسری مسلسل قرارداد کو ویٹو کرنے کے بعد بلنکن کا مشرق وسطیٰ کا چھٹا دورہ کافی اہم ہے۔ اس میں وہ فوری جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں مگر فوری جنگ بندی سے مراد چھ ہفتوں کے لیے جنگ میں وقفہ اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہے۔

بلنکن چھٹے دورے پر سب سے پہلے بدھ کے روز سعودی عرب پہنچے۔ جہاں انھوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے ساتھ اسرائیل و حماس جنگ کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ جنگ بندی کی کوششوں کے موضوع کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل اور قحط کی انتباہات بھی زیر بحث آئے۔

اگلے روز جمعرات کو بلنکن قاہرہ پہنچے ہیں جہاں ان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں جاری مذاکرات کا جائزہ لیا گیا۔ رفح پر ممکنہ اسرائیلی حملہ زیربحث آیا۔ صدر الفتاح السیسی نے کہا ؛رفح پر حملہ بہت خطرناک ہوگا اور ایک بڑی انسنای تباہی اور بحران کا خطرہ ہے۔ کیونکہ رفح غزہ کے پناہ گزینوں کے لیے آخری پناہ گاہ ہے۔ جہاں پر غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی اس وقت پناہ لیے ہوئے ہے اور اس کے پاس کوئی دوسری جگہ چھپنے کے لیے نہیں ہے۔ نیز یہ فلسطینیوں کے لیے قدرے محفدوظ جگہ ہے۔'

انٹونی بلنکن اور صدر الفتاح السیی کی ملاقات کے بارے میں امریکی دفتر خارجہ اور صدر السیسی کے دفتر نے بھی بیانات جاری کیے۔ امریکی ترجمان میتھو ملر نے کہا بلنکن نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے ایشو پر بات کی اور چھ ہفتوں کے لیے جنگی وقفے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا معاملہ زیر بحث آیا۔

دوسری جانب السیسی نے بھی فوری جنگ بندی پر زور دیا اور انسانی بحران کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متوجہ کیا۔

واضح رہے غزہ میں جنگ بندی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کا سلسلہ پچھلے ہفتے سے دوبارہ شروع ہوا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی ممکن ہوجائے اور اس کے یرغمالی رہا کر دیے جائیں جس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہائی مل سکے گی۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ مکمل جنگ بندی کے بغیر یرغمالیوں کی رہائی مشکل ہے۔ اسرائیل مکمل جنگ بندی کو تیار نہیں ہے۔

قاہرہ میں 'الحدث' کو دیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انٹونی بلنکن نے کہا 'میرے خیال میں دونوں طرف کے مؤقف میں پائے جانے والے فاصلے میں کمی ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوجائے گی۔ کیونکہ اسرائیلی ٹیم بھی مذاکرات کے لیے دستیاب ہے۔

ادھر غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال اور چار روز پہلے تک واحد بچی کھچی علاج گاہ کے طور پر بروئے کار رہنے والے الشفاء پر اسرائیلی فوج کے دوسرے بڑے حملے کا چوتھا دن مکمل ہو گیا ہے۔ ہسپتال کے اندر سے بھی آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں اور باہر کی عمارتیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ اردگرد کے علاقے کی گلیوں میں اسرائیلی ٹینک گھوم رہے ہیں۔

پانچ بچوں کے والد ایک فلسطینی شہری رباح نے کہا 'ہسپتال ایک جنگی زون میں بدل چکا ہے۔ علاقے میں پھنسے ہوئے فلسطینی اپنے گھروں سے نکل سکتے ہیں نہ کہیں جا سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج ان کے ساتھ تصادم میں آچکی ہے۔ جبکہ اسرائیلی ٹینک عمارتوں کو تہس نہس کر رہے ہیں۔'

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پچھلے روز تک حماس کے 50 بندوق برداروں کو قتل کیا تھا۔ جبکہ ہسپتال اور اس کے اردگرد 140 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق اے کے 47 کلاشنکوف، خودکار بندوقیں، ہینڈ گرنیڈ اور اس طرح کا دیگر اسلحہ فوج نے پکڑ لیا ہے۔ تاہم ہسپتال کے اندر حماس کے جنگجوؤں کے علاوہ ایک سینیئر رہنما ابھی بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی جہاد کے جنگجو بھی ہسپتال میں موجود ہیں۔

ترجمان ڈینیئل ہگاری نے کہا جب فوج ہسپتال میں داخل ہوئی تو اسے جنگجوؤں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب حماس اسرائیلی فوجی دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔

بلنکن اپنے قاہرہ کے دورہ کے موقع پر مصری وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ جبکہ اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے علاوہ پی ایل او کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں