سعودی نوجوان حادثات کم کرنیکی ایپ بنا کر گولڈ میڈل جیت گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تبوک کے ٹیکنیکل کالج کے ایک سعودی طالب علم نے پلوں پر ٹریفک میں گاڑیوں کے حادثات کو کم کرنے کے لیے ایک سینسر ایپلی کیشن بنالی۔

یہ سینسر ٹریفک کی بھیڑ اور حادثات کا پتہ لگاتا ہے۔ ساتھ ہی ٹریفک کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے مرکزی مرکز سے منسلک ٹریفک سگنلز اور کیمروں کے ذریعے ڈرائیوروں کو متنبہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایپ رپورٹس حاصل کرنے اور مسائل کی جلد از جلد نشاندہی کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

سعودی نوجوان اپنے ملک کے پرچم کے ساتھ
سعودی نوجوان اپنے ملک کے پرچم کے ساتھ

طالب علم کو اپنے سابقہ ذاتی مصائب کی وجہ سے یہ ایپ بنانے کا خیال آیا۔ اس نے اپنی اسی شاندار اختراع کے ساتھ ملائیشیا میں منعقد ہونے والی ایجادات، اختراعات اور ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی نمائش میں شرکت کی اور سونے کا تمغہ جیت لیا۔

عبداللہ الھاجری نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ یہ خیال جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے خاص طور پر پلوں پر پیش آنے والے ٹریفک حادثات کو کم کرنے کے لیے آیا کیونکہ پلوں پر پیش آنے والے ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس لیے مجھے گاڑی کا سینسر استعمال کرتے ہوئے ایجاد کا خیال پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا اس منصوبے کا ہدف جلد از جلد اس مسئلے کی نشاندہی کرنا اور ٹریفک حادثات اور اموات کی شرح کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایپلی کیشن ڈرائیوروں کو لین تبدیل کرنے کے لیے الرٹ کرتی ہے۔ مسئلہ کی نشاندہی کرنے کے لیے انتباہی رپورٹ بھیجتی ہے۔ مجاز حکام کو طلب کرتی ہے اور حفاظتی اقدامات اٹھاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں