12 سالہ فلسطینی پناہ گزین بچےکورمضان کی خوشی میں چراغاں کرنےپرسینہ میں گولی ماردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مشرقی یروشلم میں 12 سالہ بچہ چراغاں کر رہا تھا۔ لیکن ایک دھماکہ ہوا اور سینہ میں گولی لگنے کے باعث ہلاک ہوگیا۔ بچے کے قتل کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جلد ہی وائرل ہوگئی اور کئی دن لوگوں نے اسے دیکھا۔ بچے نے یہ روشنی رمضان کے استقبال کی خوشی میں کی تھی۔

اس بچے کو شعفات پناہ گزین کیمپ میں نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی پولیس اہلکار نے بچے کے سینہ میں گولی ماری ۔ اسے ہلال احمر کی ایمرجنسی میں لایا گیا کہ اس کی زندگی بچائی جا سکے مگر وہ سینہ میں گولی لگنے کے باعث ہلاک ہو چکا تھا۔

اس کے خاندان نے کہا ہے کہ بچے کو سینہ میں گولی لگی ہے۔ گولی اس جانب سے آئی جہاں اسرائیلی پولیس کا ٹاور ہے۔ جو شفعات پناہ گزین کیمپ کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

اس کے بھائی اور چار دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ رمضان کے دوسرے روزے کے اختتام پر افطاری کے وقت خوشی منا رہا تھا۔ اس نے یہ روشنیاں فلسطینیوں خصوصاً فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے روشن کی تھی جو بغیر کسی جواز کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار نے فائر قانون کے مطابق کیا ہے۔ پولیس کو یہ اختیار ہے کہ وہ آتش بازی کرنے والے کسی بھی شخص کو گولی مار سکتی ہے۔ اگر پولیس کو یہ خطرہ محسوس ہو کہ وہ آتش بازی کسی کو نشانہ لے کر کی جا رہی ہو۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

12 سالہ بچے کا والد اس وقت گھر پر موجود تھا جب اس کے بیٹے کو گولی لگی۔ والد نے گولی چلنے اور اپنے بیٹے کی آواز سنی۔ بچے کے والد اور والدہ فوراً باہر نکلے تو انھوں نے دیکھا کہ بچہ منہ کے بل گرا ہوا ہے۔

7 اکتوبر کے بعد سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تشدد کے واقعات بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ اب تک 435 لوگوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ جن میں سو کے قریب بچے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی انسانی حقوق کے ادارے 'بی ٹی سیلم ' نے بتائی ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ کم از کم 60 واقعات ایسے ہیں جن میں بغیر کسی جواز کے گولی چلائی گئی ہے۔ یہ لوگ احتجاج میں حصہ لے رہے تھے۔

انسانی حقوق کے اس ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اور پولیس کے لیے پستول کا ٹریگر دبانا بڑا ہی خوشگوار عمل ہے۔ جس کے ذریعے وہ کسی کی بھی جان لے لیتے ہیں۔ جن میں فلسطینی بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

شفعات پناہ گزین کیمپ میں جس بچے کو رات 8 بجے کے قریب اس کے گھر کے باہر گولی ماری گئی وہ پولیس کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہ اسرائیلی پولیس سے صرف 60 میٹر کے فاصلے پر تھا جیسا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے اور رمضان کی خوشی منا رہا تھا۔

ایک 16 سالہ بچہ ابراہیم جو اس موقع پر قریب ہی کھڑا تھا اور مقتول بچے کا رشتہ دار ہے نے کہا 'ہم خوفزدہ ہیں اور اسرائیلی پولیس کے اس ٹاور سے ہمارے لیے کسی بھی وقت گولی آسکتی ہے۔'

خیال رہے شفعات پناہ گزین کیمپ میں 60 ہزار فلسطینی رہتے ہیں اور یہ اکثر اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ یہ غریبوں کی ایک ایسی گنجان آباد بستی ہے جس میں کوئی بھی بنیادی سہولت نہیں ہے اور یہ مشرقی یروشلم شہر کے قریب ترین ہے۔ یروشلم میں فلسطینیوں کا یہ واحد پناہ گزین کیمپ ہے۔ اس کے اردگرد بڑی تعداد میں اسرائیلی چیک پوائنٹس ہیں جہاں سے اسرائیلی فوج جب چاہے کسی فلسطینی کو مشتبہ قرار دے کر گرفتار کر سکتی ہے۔

مقتول کے والد علی نے کہا 'جب ہم بچے کو ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹر نے کہا لڑکا مرچکا ہے اور آپ اسے دیر سے لے کر آئے ہیں۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی پولیس افسر ہسپتال پہنچ گیا اور اس نے کہا بچے کی لاش کو اسرائیلی ہسپتال منتقل کریں تاکہ پوسٹمارٹم ہو سکے۔ لیکن کئی دن تک نہ پوسٹمارٹم کیا گیا نہ اس کی لاش واپس کی گئی۔ جب بھی پولیس سے رابطہ کیا جاتا تو وہ کہتی پوسٹمارٹم کے بعد واپس کر دی جائے گی۔'

ایک وقت پر اسرائیلی پولیس نے مقتول بچے کے والد سے کہا 'خیال رکھنا جنازے میں چالیس سے زیادہ لوگ جمع نہ ہوں ورنہ جرمانہ کر دیا جائے گا۔' بعد ازاں اتوار کی رات کو مقتول بچے کی لاش والدین کو دے دی گئی اور صبح سویرے جنازہ پڑھایا گیا۔ اس کے 61 سالہ باپ نے کہا 'کیا میرا 12 سالہ بچہ دہشت گرد تھا جسے پولیس نے بےرحمی کے ساتھ سینہ میں گولی مار کر شہید کر دیا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں